وزارت داخلہ کو ٹیکس نادہندگان کو اسلحہ لائسنس جاری نہ کرنے کی ہدایت

منگل 20 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ ٹیکس نادہندگان کو اسلحہ لائسنس جاری نہ کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن اور توثیق کا عمل روک دیا

کمیٹی نے وزارت داخلہ کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ اس سفارش پر عملدرآمد ہونا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ کسی ٹیکس نادہندگان کو اسلحہ لائسنس جاری نہ کیا جائے۔

سینیٹ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو، سینیٹر عمر فاروق، سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان اور سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی نے شرکت کی جبکہ سینیٹر محمد عبدالقادر خصوصی مدعو کی حیثیت سے شریک ہوئے۔

اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان، انوشہ رحمان احمد خان، محمد اسلم ابڑو، جان محمد بلیدی، ڈاکٹر افنان اللہ خان اور عبدالشکور خان نے شرکت کی جبکہ آئی جی پی سندھ کی مسلسل غیر حاضری پر سینیٹر دانش کمار نے بطور احتجاج اجلاس چھوڑ دیا۔

اجلاس کے دوران کمیٹی نے انسپیکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) سندھ کی غیر حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور سندھ پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔

سینیٹر اسلم ابڑو کے بھائی و بھتیجے کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کی ہدایت

کمیٹی نے سینیٹر محمد اسلم ابڑو کے بھائی اور بھتیجے کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور سندھ و بلوچستان پولیس باہمی رابطے سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوشاں ہیں۔

چیئرمین نے ہدایت کی کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے رپورٹ کمیٹی میں پیش کی جائے بصورت دیگر متعلقہ آئی جی پی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

کمیٹی نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام (ترمیمی) بل 2025 پر غور کیا اور وزارت داخلہ کی جانب سے کسی اعتراض کی عدم موجودگی میں بل منظور کر لیا۔

اسی طرح اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (پلاسٹک بک کورز کی ممانعت) بل 2025 بھی منظور کیا گیا جس پر چیئرمین نے ماحول دوست قانون سازی کا خیرمقدم کیا۔

عوام کے ڈیٹا لیک، ڈارک ویب پر دستیابی پر اظہار تشویش

اجلاس میں شناختی کارڈ چوری اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔

نادرا اور ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ سنہ 2023 کے بعد سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے اور ڈیٹا لیکج کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

مزید پڑھیے: ڈیجیٹل اسلحہ لائسنس کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان کا دیگر قانونی دستاویزات کو بھی ڈیجیٹائز کرنے کا اعلان

اس کے باوجود ڈارک ویب پر پاکستانی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کی دستیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی نے سائبر سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔

کمیٹی کو سرپرست اعلیٰ، سینٹرل گروپ آف کالجز میاں عادل رشید  کے بیٹے کے قتل کیس پر بھی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور ملزمان گرفتار ہو گئے ہیں۔

کمیٹی نے پنجاب پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا تاہم وزیر مملکت برائے داخلہ کو کیس سے متعلق باقاعدہ آگاہ رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

اس کے علاوہ بعض افراد کے قومی شناختی کارڈز بلاک کیے جانے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔

مزید پڑھیں: پوری قوم کا ڈیٹا ڈارک ویب پر دستیاب ہے، افسران کے بغیر چوری ممکن نہیں، افنان اللہ خان

کمیٹی نے ہدایت کی کہ متاثرہ افراد کو ضلعی سطح کی کمیٹیوں کے ذریعے پالیسی کے مطابق تصدیق اور کلیئرنس کی سہولت فراہم کی جائے۔

واٹس ایپ ہیکنگ کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات

ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے نے پاکستان میں واٹس ایپ ہیکنگ کے بڑھتے واقعات پر بریفنگ دی اور بتایا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور نئے ادارے کو ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قانون کا پابند بنایا جائے بصورت دیگر ان پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

گاڑیوں کی ای ٹیگنگ، ایم ٹیگنگ پر بریفنگ

اجلاس میں گاڑیوں کی ای ٹیگنگ اور ایم ٹیگنگ نیز اسلام آباد میں گھریلو سرویز پر بھی بریفنگ دی گئی۔

کمیٹی نے حساس ذاتی معلومات کے تحفظ پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈیٹا پروٹیکشن کے مضبوط اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

ایف بی آر گوداموں سے سگریٹ کاٹن چوری کا نوٹس

کمیٹی نے ایف بی آر صوابی اور مردان کے گوداموں سے 2,828 کارٹن سگریٹ چوری ہونے کے واقعے کا بھی نوٹس لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں 54 فیصد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت ہونے کا انکشاف

چیئرمین کمیٹی نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جس میں سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر طلحہ محمود بطور اراکین شامل ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بیرون ملک پاکستانیوں کے روزگار، فلاحی مسائل اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز کی کارکردگی کا جائزہ

پاکستان نے 2 سال کے لیے اقتصادی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھال لی

دہشتگرد وادی تیراہ میں موجود، کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کی جائےگی، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ

یونان میں دنیا کے قدیم ترین لکڑی کے اوزار دریافت، لاکھوں سال محفوظ رہنے پر سائنسدان حیران

بلوچستان حکومت کا بڑا انتظامی فیصلہ، محکمہ مذہبی امور تحلیل کرنے کی منظوری

ویڈیو

پروپیگنڈا ناکام، منہ توڑ جواب میں ہوش اڑا دینے والے ثبوت آگئے

22 لاکھ کی گاڑی کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے کی نمبر پلیٹ، پشاور میں نیا کارنامہ

گوادر: چائے کی خوشبو میں لپٹی خواتین کی خود مختاری، 3 پڑھی لکھی سہیلیوں کا کارنامہ

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟