پوری قوم کا ڈیٹا ڈارک ویب پر دستیاب ہے، افسران کے بغیر چوری ممکن نہیں، افنان اللہ خان

منگل 20 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پی ایم ایل این سینیٹر افنان اللہ خان کا کہنا ہے کہ تمام پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر ڈال دیا گیا ہے اور معلومات کی اس چوری میں متعلقہ افسران کا ہاتھ ضرور رہا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں سروے اور ای ٹیگز: ہماری معلومات ڈارک ویب پر بک گئیں تو کون ذمہ دار ہوگا؟ سینیٹر پلوشہ خان

منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران سینیٹر نے کہا کہ تمام پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے اور یہ تازہ ترین ڈیٹا ہے اور یہ اتنا مفصل اور منظم ہے کہ شاید ہمارے پاس اس سے بہتر ڈیٹا موجود نہ ہو۔

افنان اللہ خان نے کہا کہ مثال کے طور پر نادرا، ایف بی آر اور بینکوں کے ڈیٹا کو ایک مجموعے میں یکجا کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈارک ویب سے کسی بھی شخص کا ڈیٹا صرف 500 روپے میں مل جاتا ہے تاہم اگر کوئی پورے ملک کا ڈیٹا حاصل کرنا چاہے تو وہ اس کو 70-80 ارب روپے میں ملے گا۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ یہ ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے اور کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جیسے دوسروں کے لیے (جعلی) پاسپورٹ یا شناختی کارڈ حاصل کرنا۔

افنان اللہ خان نے سوال کیا کہ پاکستانیوں کا ڈیٹا بار بار کیوں چوری ہوتا ہے؟

مزید پڑھیے: گوگل کا ڈارک ویب رپورٹ ٹول بند کرنے کا اعلان، صارفین کا ڈیٹا اب کیسے محفوظ رہے گا؟

انہوں نے امگریشن اور پاسپورٹس کے ڈائریکٹر جنرل مصطفیٰ جمال قاضی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں ایک بات واضح کر دوں کہ اتنی بڑی مقدار میں ڈیٹا کی چوری اہلکاروں کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں کیوں کہ 24 کروڑ افراد کا ڈیٹا محض ایسے ہی چوری نہیں کیا جا سکتا۔

اجلاس میں کمیٹی کے چیئرپرسن اور پی ٹی آئی سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے مصطفیٰ جمال قاضی سے پوچھا کہ اس سلسلے میں کوئی تحقیقات کی گئی ہیں یا نہیں۔

مصطفیٰ جمال قاضی نے جواب دیا کہ تفتیش کی گئی اور کچھ اہلکار بھی ہٹا دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈارک ویب پر معلومات لیک ہونے سے روکنے کیلئے وزارتوں کو ایڈوائزری جاری

سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ڈیٹا کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا ڈیٹا لیک ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا۔

تعاون نہ کرنے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کی تجویز

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور دہشتگردوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دہشتگرد بندوقیں استعمال کرتے تھے اور اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔

اس معاملے پر سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے حکومت سے مشورہ دیا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ معاہدہ کرے اور وہ پلیٹ فارم جو تعاون نہ کریں ان پر پابندی لگائی جائے۔

پی پی پی سینیٹر پلوشہ خان نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً پابندی لگانی چاہیے۔

سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز موجود ہیں اور کہا کہ  ضرورت نہیں کہ ان کمپنیوں کی خدمات لی جائیں جو تعاون نہیں کرتیں۔

مزید پڑھیں: ایک دوسرے پر گھونسوں کی بارش کرنے والے شیر افضل مروت اور افنان اللہ بغل گیر، تلخیاں دور

طلال چوہدری نے اس تجویز پر کہا کہ یہ ایک بڑا فیصلہ ہے اور اگر ہم ایسا کریں تو اسے اظہار رائے پر حملہ کہا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نہار منہ زیتون کا تیل پینا کیا واقعی بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مددگار ہوتا ہے؟

ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز چیمپیئن شپ 2026 کے شیڈول کا اعلان، پاک بھارت ٹیمیں 22 نومبر کو آمنے سامنے ہوں گی

برطانیہ میں گھڑیاں پیچھے، پاکستان سے وقت کا فرق کتنے گھنٹے ہوگا؟

صدرآصف علی زرداری کا دورہ جرمنی، سیمنز کا شعبۂ صحت میں تعاون، مفاہمتی یادداشتوں کے لیے جلد پاکستان آنے کا اعلان

لاہور: بارش اور ژالہ باری، فضائی آلودگی میں قدرے کمی آگئی

ویڈیو

اسلام آباد میں بارش کے بعد ملک بھر میں کہاں برسات کا امکان ہے؟

عالمی تنازعات سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ، معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں، وزیر خزانہ

بابر اعظم اور شاداب خان توقعات پر پورے نہیں اتر رہے، شاہین آفریدی بہتر کپتان ہیں، ماجد بھٹی

کالم / تجزیہ

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟

باغ جل رہا ہے