امریکا نے وینزویلا کے تیل کی پیداوار اور فروخت پر سخت کنٹرول قائم رکھنے کے اپنے مؤقف کو مزید مضبوط کرتے ہوئے ایک اور تیل بردار جہاز اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی کیریبین میں وینزویلا سے وابستہ تیل بردار جہازوں کی ناکہ بندی کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے وینزویلا کے تیل کی فروخت شروع کر دی ، 500 ملین ڈالر کی رقم اکاؤنٹس میں محفوظ
امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے وینزویلا سے منسلک ساتواں تیل بردار جہاز اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ لاطینی امریکا میں فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنیوالی امریکی سدرن کمانڈ (ساؤتھ کام) نے بتایا کہ موٹر ویسل ساگیٹا کو اس وقت روکا گیا جب وہ وینزویلا آنے یا وہاں سے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ساؤتھ کام کے مطابق یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا سے منسلک پابندی زدہ جہازوں کے خلاف عائد کردہ سمندری قرنطینہ کے تحت کی گئی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ جہاز صدر ٹرمپ کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیل کی نقل و حمل میں مصروف تھا۔
BREAKING || US seizes Venezuela-linked vessel in the Caribbean.
This is the seventh oil tanker seized in recent days.@Srinjoyc1 & @anchoramitaw with more details. pic.twitter.com/WyjvQZIYHO
— TIMES NOW (@TimesNow) January 21, 2026
حکام کے مطابق جہاز کو تحویل میں لینے کا عمل کسی مزاحمت یا تصادم کے بغیر مکمل کیا گیا، اور اس دوران امریکی فورسز کی جانب سے جہاز پر اترنے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے 10 دسمبر سے وینزویلا سے منسلک تیل بردار جہازوں کو تحویل میں لینے کا سلسلہ شروع کیا تھا، جسے وینزویلا پر دباؤ بڑھانے کی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا بمقابلہ کیوبا اور وینزویلا: تعلقات میں کشیدگی کی اصل وجوہات کیا ہیں؟
امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی 3 جنوری کو اس وقت عروج پر پہنچی جب صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک فوجی کارروائی کی منظوری دی۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ وینزویلا کا تیل غیرقانونی طور پر فروخت کیا جا رہا ہے اور امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ وینزویلا سے نکلنے والا تیل صرف قانونی اور امریکی نگرانی میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق فروخت ہو۔

صدر ٹرمپ متعدد بار یہ بیان دے چکے ہیں کہ وینزویلا کے تیل کی عالمی منڈی میں فروخت امریکا کے کنٹرول میں ہو گی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن امریکی زیرِ انتظام اکاؤنٹس میں جمع کرائی جائے گی۔
دوسری جانب قانونی ماہرین ان اقدامات کو وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ عبوری وینزویلا صدر ڈیلسے روڈریگز نے حال ہی میں بتایا ہے کہ ان کے ملک کو حالیہ تیل فروخت سے 30 کروڑ ڈالر موصول ہوئے ہیں، جبکہ حکومت مستقبل میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دینے کے لیے ہائیڈروکاربن قوانین میں اصلاحات کا عندیہ بھی دے چکی ہے۔













