روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

بدھ 21 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے ڈالر کے 250 روپے سے نیچے جانے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں بہتری کے متعدد عوامل موجود ہیں۔

جن میں دفاعی برآمدات میں اضافہ، عالمی مارکیٹ میں جے ایف 17 طیاروں کی بڑھتی ہوئی طلب اور اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط بحالی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سنہ 2025 پاکستانی روپے کے لیے بہتر سال رہا، سال نو کیسا رہے گا؟

ان کے مطابق روپے کی حقیقی قدر پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہو گئی ہے اور مستقبل میں مزید مضبوط ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

مگر دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں فی الحال مضبوطی پاکستانی معیشت کے لیے منفی اثر پیدا کر سکتی ہے، مگر ایسا کیوں؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے معاشی ماہر راجہ کامران نے خبردار کیا ہے کہ روپے کی قدر میں غیر فطری کمی یا تیزی سے مضبوطی معیشت میں عدم توازن پیدا کر سکتی ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی کرنسی کی قدر کا تعین برآمدات، درآمدات اور مہنگائی جیسے اہم عوامل سے جڑا ہوتا ہے، اگر کوئی ملک اپنی برآمدات بڑھانا چاہتا ہے تو وہ کرنسی کی قدر کم رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی پاکستان کو دیوالیہ کر گئی، ہم نے ترقیاتی بجٹ میں جان ڈالی، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال

’۔۔۔تاکہ عالمی منڈی میں اس کی مصنوعات سستی ہوں، جبکہ درآمدات پر انحصار رکھنے والی معیشتیں مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے کرنسی کو مستحکم رکھتی ہیں۔‘

راجہ کامران کے مطابق اگر روپے کی قدر 250 روپے فی ڈالر تک آ جاتی ہے تو اس کے ملکی معیشت پر ہمہ جہتی اثرات مرتب ہوں گے۔

’روپے کی قدر میں اضافے سے درآمدات سستی ہو جائیں گی، جس سے درآمدی اشیا کی طلب بڑھے گی، تاہم اس کے برعکس برآمد کنندگان کو ڈالر کے عوض کم روپے ملیں گے، جس سے برآمدات کی حوصلہ شکنی ہوگی۔‘

مزید پڑھیں: ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل گراؤٹ کی وجہ کیا ہے؟

راجہ کامران سمجھتے ہیں کہ روپے کی قدر میں بہتری کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی اور بعض صورتوں میں ڈیفلیشن بھی ہو سکتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر ایک ڈالر میں خریدی جانے والی اشیا، جیسے پیٹرول، 280 روپے کے بجائے 250 روپے میں دستیاب ہوں تو درآمد کنندگان کو فائدہ ہوگا، تاہم مقامی صنعت اور مینوفیکچرنگ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روپے کو مصنوعی طور پر مضبوط کیا گیا تو درآمدات میں اضافہ جبکہ برآمدات میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے معیشت میں عدم توازن پیدا ہوگا اور مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات مہنگی جبکہ درآمدی اشیا نسبتاً سستی ہو جائیں گی۔

مزید پڑھیں: شرح سود برقرار، ایران اسرائیل کشیدگی نے پاکستان کی معیشت پر کیا اثرات مرتب کیے؟

معاشی امور کے ماہر شہباز رانا نے ڈالر کے ممکنہ ریٹ سے متعلق زیرِ گردش خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں ڈالر کی موجودہ قیمت تقریباً 280 روپے کم تصور کی جا رہی ہے اور متعدد ماہرین کے نزدیک اس کی اصل مارکیٹ بیسڈ قیمت 4 سے 5 فیصد زیادہ ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کیے گئے ایک ورکنگ گروپ اور پینل نے بھی یہی تجویز دی ہے کہ ڈالر کی قیمت کو مکمل طور پر مارکیٹ فورسز کے مطابق طے کیا جائے، نہ کہ کسی مصنوعی سطح پر رکھا جائے۔

شہباز رانا کے مطابق اس پینل نے اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کر دی ہیں، جن میں ڈالر کو اس کی حقیقی مارکیٹ ویلیو کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی تجویز شامل ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا کیا مستقبل ہے؟

انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ڈالر کو 250 روپے تک لانے یا اس سے نیچے جانے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی فیصلہ جاری ہوا ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں اس طرح کی باتیں ضرور ہوتی رہی ہیں، تاہم موجودہ معاشی حالات میں حکومت کای توجہ کرنسی کو مارکیٹ بیسڈ اور مستحکم رکھنے پر مرکوز ہے، نہ کہ اسے مصنوعی طور پر مضبوط کرنے پر۔

شہباز رانا کا کہنا تھا کہ اگر ڈالر کی قیمت کو مارکیٹ فورسز کے برخلاف دبایا گیا تو اس سے نہ صرف برآمدات متاثر ہوں گی بلکہ درآمدات میں غیر ضروری اضافہ ہو سکتا ہے، جو تجارتی توازن کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ ’اسی لیے پالیسی ساز اس وقت کرنسی مینجمنٹ میں محتاط حکمتِ عملی اپنانے کے حامی ہیں۔‘

مزید پڑھیں:وزیر خزانہ کی ایف اے ٹی ایف گائیڈ لائنز کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطہ کار کو یقینی بنانے کی ہدایت

معاشی ماہر عابد سلہری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی کے لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مضبوط اور پائیدار اضافہ ناگزیر ہے، جو اس وقت موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ زرِ مبادلہ کے ذخائر بنیادی طور پر آئی ایم ایف پروگرام، قرضوں کے رول اوور اور مشرقِ وسطیٰ و چین سے حاصل ہونے والی مالی معاونت کی بدولت برقرار ہیں، نہ کہ برآمدات یا سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی مستحکم آمدن کے نتیجے میں۔ ایسی صورتحال میں روپے کے تیزی سے مضبوط ہونے کی گنجائش محدود ہے۔

مزید پڑھیں: زرمبادلہ کے ذخائر جلد 9 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے، گورنر اسٹیٹ بینک

عابد سلہری کے مطابق موجودہ حالات میں بہترین ممکنہ منظرنامہ یہی ہے کہ روپیہ اپنی موجودہ سطح پر مستحکم رہے، جیسا کہ اس وقت دکھائی دے رہا ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی سطح پر کوئی جیو پولیٹیکل بحران پیدا ہوتا ہے یا تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے درآمدی دباؤ بڑھتا ہے، تو روپے پر دباؤ آ سکتا ہے اور اس کی قدر میں کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ معاشی حالات میں روپے کے نمایاں طور پر مضبوط ہونے یا ڈالر کے مقابلے میں قدر بہتر ہونے کے آثار نظر نہیں آتے، البتہ منفی عالمی یا علاقائی عوامل کی صورت میں روپے کی قدر میں کمی کا خطرہ موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ: 40 تولہ حق مہر پر اعتراض، چیف جسٹس کا شوہر کو ادائیگی کا مشورہ

اسلام آباد میں نئے کنونشن سینٹر کی تعمیر، محسن نقوی کا مجوزہ جگہ کا دورہ

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

شادی کے 2 ماہ بعد خاتون محبوب کے ساتھ فرار، شوہر اور رشتہ کرانے والے نے خودکشی کرلی

’اسکول میں موٹیویٹ کرتے تھے اب پیزا ڈیلیور کررہے ہو‘، سابق کلاس فیلو کا ڈیلیوری بوائے پر طنز، ویڈیو وائرل

ویڈیو

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے