سال 2025 میں پاکستانی روپے کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں کارکردگی مجموعی طور پر مستحکم رہی تاہم اس اس حوالے سے کچھ اتار چڑھاؤ بھی دیکھے گئے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا سال 2026 بھی ایسا رہے گا یا کوئی بڑی تبدیلی آ سکتی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر کے مقابلے میں 76 پیسے کا اضافہ
بات کی جائے سنہ 2025 کی تو جنوری میں ڈالر انٹر بینک مارکیٹ میں تقریباً 278 روپے کے آس پاس ٹریڈ کر رہا تھا جبکہ دسمبر کے آخر میں ڈالر کی قیمت تقریباً 280 روپے رہی۔
اس طرح پورے سال کے دوران ڈالر زیادہ تر 275 سے 285 روپے کی حد میں رہا۔ سال کے وسط میں ڈالر کی قدر میں تھوڑا اضافہ دیکھا گیا تھا جو تقریباً 285 روپے تک گئی لیکن بعد میں روپیہ دوبارہ سنبھل گیا۔
ماہرین کے مطابق سنہ 2025 میں روپے کے زیادہ نہ گرنے کی چند بڑی وجوہات تھیں۔
ان وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی (جو 2024 کے مقابلے میں کم ہو کر سنگل ڈیجٹ یعنی 5 سے 7 فیصد کے قریب آگئی)، جس سے کرنسی پر دباؤ کم ہوا۔
مزید پڑھیے: ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل گراؤٹ کی وجہ کیا ہے؟
ماہرین نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم میں اضافہ ہوا، جس نے روپے کو سہارا دیا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں اور دیگر ممالک سے فنڈز ملنے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے جس نے مارکیٹ میں اعتماد بحال رکھا۔
علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود اور امپورٹس (درآمدات) کو کنٹرول میں رکھا تاکہ ڈالر کی طلب بے قابو نہ ہو۔
اگرچہ 2025 میں روپے نے ڈالر کے مقابلے میں کوئی بہت بڑی چھلانگ نہیں لگائی لیکن یہ پچھلے کچھ سالوں کی طرح تیزی سے گرا بھی نہیں۔ معاشی ماہرین اسے انتظامی استحکام کا نام دے رہے ہیں یعنی حکومتی پالیسیوں نے روپے کو ایک خاص حد میں روکے رکھا۔
معاشی ماہرین امید ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر معاشی پالیسی یہی رہی سال 2026 میں بھی پاکستانی روپیہ مستحکم رہے گا۔
مزید پڑھیں: انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے روپے پر کچھ دباؤ دیکھنے میں آئے لیکن مجموعی طور پر صورت حال بہتر رہے گی۔













