پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کراچی کے سانحہ گل پلازہ پر اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سانحے کی ذمہ داریوں پر بات کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پر تنقید بھی کی۔
ایوان میں تقریر کے دوران جب عبدالقادر پٹیل کی تنقید شدت اختیار کر رہی تھی تو خاتون اول اور رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو نے ایک پرچی تحریر کر کے پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری کو دی، جسے شازیہ مری نے عبدالقادر پٹیل تک پہنچایا، جس کے بعد انہوں نے اپنا لب و لہجہ تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ الزام تراشی کسی مسئلے کا حل نہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: جماعت اسلامی نے وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ کردیا، ملین مارچ کا اعلان
شازیہ مری کی جانب سے پرچی دینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے دلچسپ اور طنزیہ تبصرے سامنے آئے۔ ایک صارف شیراز احمد شیرازی نے لکھا کہ پرچی آئی تو قادر پٹیل ٹھنڈے ہو گئے، ورنہ سخت مؤقف جاری تھا۔
پرچی آئی تو ہی قادر پٹیل ٹھنڈے ہوئے ورنہ تو رگڑا پروگرام ہی چل رہا تھا pic.twitter.com/cP6Vax6IK2
— Sheraz Ahmad Sherazi (@Sherazi_Silmian) January 20, 2026
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ تقریر دلچسپ ہو رہی تھی مگر پرچی نے سارا ماحول بدل دیا۔ حق نواز نامی صارف کا کہنا تھا کہ ایک پرچی کے بعد قادر پٹیل کی آواز ہی بند ہو گئی۔
واضح رہے کہ کراچی کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری کی شب لگنے والی ہولناک آگ نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ آگ پر قابو پانے کے لیے 34 گھنٹے تک مسلسل کارروائی جاری رہی۔
یہ بھی پڑھیں: اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات
حکام کے مطابق اب تک 26 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر آفس میں قائم ہیلپ ڈیسک کے مطابق 81 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ جاں بحق افراد کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔













