امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ گل پلازہ پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے استعفے کا مطالبہ کردیا اور یکم فروری کو کراچی میں ملین مارچ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعتِ اسلامی یکم فروری کو کراچی میں بھرپور ملین مارچ کرے گی اور شہر کے تمام اضلاع سے عوام کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی، 26 جاں بحق، 81 افراد لاپتا، لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے معائنے جاری
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک کراچی کے شہری کبھی آگ اور کبھی گٹروں کا شکار بنتے رہیں گے، اب وزیر اعلیٰ سندھ کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ آرمی چیف کا بیان تھا کہ کراچی میں ایک مخصوص سسٹم کام کرتا ہے، لیکن جب وہی نظام اسلام آباد منتقل ہوگیا تو اب شہری کس سے فریاد کریں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جن عناصر نے کراچی میں مافیا کو پروان چڑھایا ہے، انہیں ہی اس کے خاتمے کی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ ان کے مطابق اگر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مؤثر طریقے سے کام کر رہی ہوتی تو سانحہ گل پلازہ پیش نہ آتا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ آگ بجھانے والی گاڑیاں واقعے کی جگہ دیر سے پہنچیں اور جب پہنچیں تو ان میں پانی اور ڈیزل تک موجود نہیں تھا، جبکہ فائر فائٹرز کے پاس حفاظتی کٹس بھی نہیں تھیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت نے ہزاروں ارب روپے خرچ کر دیے مگر فائر بریگیڈ کو جدید آلات فراہم نہ کیے جا سکے۔ انہوں نے سوال کیا کہ تین ہزار تین سو ساٹھ ارب روپے آخر کہاں گئے۔
حافظ نعیم الرحمان نے بلاول بھٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وہ خود کو ’ونڈر بوائے‘ سمجھنے لگے ہیں اور ونڈر بوائے بننے کے لیے محض نمائشی اقدامات کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول کی بریفنگز، کرپشن، ناقص کارکردگی اور لوٹ مار کی حقیقت گل پلازہ میں جلتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات
انہوں نے پنجاب حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق ’کالا قانون‘ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی ریفرنڈم میں 97 فیصد عوام نے اس قانون کو مسترد کردیا ہے، اور اگر مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا۔













