سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے خاکستر گل پلازہ سے متصل عمارت رمپا پلازہ کوغیرمحفوظ قرار دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت کے بعد ہولناک آتشزدگی کے اس سانحے میں شناخت شدہ لاشوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی، 26 جاں بحق، 81 افراد لاپتا، لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے معائنے جاری
لاشوں کی شناخت محمد شہروز، محمد رضوان اور مریم کے نام سے ہوئی جن کی میتیں اہل خانہ نے وصول کیں، ان کے علاوہ دیگر جاں بحق افراد میں کاشف، مصباح، عامر، فراز، فاروق، فرقان، محمد علی، تنویر شامل ہیں۔
واضح رہےکہ سانحے میں اب تک 30 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور17 لاشیں ناقابل شناخت ہیں، شناخت کے لیے 50 فیملیز کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے موصول ہوچکے ہیں۔
گل پلازا میں آتشزدگی کے بعد ایس بی سی اے حکام نے ساتھ میں قائم رمپا پلازا کو غیر محفوظ قراردے دیا،سندھ بلڈنگ کنڑول اتھارٹی کا رمپاپلازا انتظامیہ،دکان مالکان کو نوٹس جاری#karachigullplaza pic.twitter.com/3to4l97m54
— Mumtaz Shigri (@iamMumtazShigri) January 20, 2026
ریسکیو اہلکار گل پلازہ کے ملبے کو ہٹانے کے عمل میں مصروف ہیں، جہاں سے مزید 2 افراد کی لاشوں کے بعض حصے برآمد ہوئے ہیں۔
برآمد ہونے والی باقیات کو شناخت کے لیے فوری طور پر سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 30 ہو گئی ہے، جبکہ دیگر لاپتا افراد کی تلاش بدستور جاری ہے۔
مزید پڑھیں: گورنر سندھ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے حق میں سامنے آگئے، بڑا مطالبہ کردیا
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 86 افراد لاپتا رپورٹ ہوئے ہیں، اسی دوران ایک اور لاپتا شہری کے اہلِ خانہ نے ڈی سی آفس سے رابطہ کیا ہے۔
دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے گل پلازہ سے متصل عمارت رمپا پلازہ کا ابتدائی معائنہ مکمل کرنے کے بعد اسے غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔
حکام کے مطابق گل پلازہ میں تیسرے درجے کی شدید آتشزدگی کے باعث رمپا پلازہ کے ستونوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
مزید پڑھیں: اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات
اس صورتحال کے پیش نظر رمپا پلازہ کی انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ پلازہ کے خطرناک حصوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ رمپا پلازہ میں کسی بھی غیرقانونی یا غیر اجازت شدہ سرگرمی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ 3 روز میں کراچی کی تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات نصب کرنا ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی، قرآن پاک کے نسخے مکمل طور پر محفوظ رہے
ان کے مطابق اس ضمن میں اس وقت مطلوبہ آلات دستیاب ہی نہیں ہیں، منگل کی شام جاری کی گئی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ کی تفصیلات بھی منظر عام پر آ گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین آباد حسن بخشی نے بتایا کہ رپورٹ میں جن عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے متعدد عمارتیں 30 سے 35 سال پرانی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آباد کے اراکین کی جانب سے گزشتہ 15 سے 20 برسوں میں تعمیر کی گئی بیشتر عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی، قرآن پاک کے نسخے مکمل طور پر محفوظ رہے
تاہم اس سے قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کے بلڈرز کو فائر سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کراچی بھر کی عمارتوں میں 3 روز کے اندر فائر سیفٹی سسٹم نصب کرنے کا الٹی میٹم جاری کیا تھا۔












