امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ خریدنے اور یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی سطح پر سیاسی و اقتصادی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ڈنمارک کے ایم پی اینڈرس وسٹیزن نے یورپی پارلیمنٹ میں ٹرمپ کو کھلے عام سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:وال اسٹریٹ میں بڑی گراوٹ، ٹرمپ کے گرین لینڈ ٹیریف دھمکی نے مارکیٹ میں ہلچل مچادی
اینڈرس وسٹیزن نے یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں کہا کہ گرین لینڈ 800 سال سے ڈنمارک کا حصہ ہے اور یہ فروخت کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے براہِ راست ٹرمپ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’مسٹر صدر، ف* آف۔‘
ان کی تقریر کے دوران پارلیمنٹ کے نائب صدر نے زبان کے استعمال کی وجہ سے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد ٹرمپ نے دوبارہ یورپی ممالک پر دباؤ ڈال کر 25 فیصد تک ٹیرفز لگانے کی دھمکی دی، خاص طور پر ان پر جو ڈنمارک کی حمایت کریں۔

اسی دوران، کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ٹیرف ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کینیڈا گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی معیشت میں دباؤ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا خطرناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ڈنمارک نے گرین لینڈ میں مزید فوجی تعینات کر دیے
کارنی نے کہا کہ طاقتور ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات نے عالمی نظام کو ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور مذاکراتی عمل کو ترجیح دینی ہوگی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا میں ترقی اور استحکام چاہتے ہیں، سامراجی عزائم کے سامنے نہیں جھکیں گے‘۔

آرکٹک کے معدنیات سے مالا مال گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر امریکا اور نیٹو روس و چین کے مقابلے میں اس خطے میں اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر کشیدگی اور تجارتی عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
اس تنازعے نے بین الاقوامی تعلقات میں نئی پیچیدگی پیدا کر دی ہے، جہاں سیاسی بیان بازی، ٹیرف دھمکیاں اور دفاعی حکمت عملی ایک ساتھ جڑ گئی ہیں، جس کا اثر نہ صرف یورپ بلکہ شمالی امریکہ اور آرکٹک کے دیگر ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔













