کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکا کی جانب سے گرین لینڈ پر ممکنہ ٹیرف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات ناقابل قبول ہیں۔
ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیاکہ کینیڈا آرکٹک میں سلامتی اور خوشحالی کے لیے بامقصد مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور گرین لینڈ و ڈنمارک کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے گا۔
مزید پڑھیں: کیا کینیڈا امریکا کی 51ویں ریاست بن سکتا ہے؟
مارک کارنی نے عالمی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا اب طاقتور ممالک کے درمیان مقابلے کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے اور پرانا عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
انہوں نے خبردار کیاکہ معاشی انضمام کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور اگر درمیانی طاقتیں مذاکرات کی میز پر شامل نہ ہوں تو فیصلوں کی زد میں آ جائیں گی۔
مارک کارنی نے کہاکہ ہم کسی عبوری مرحلے سے نہیں بلکہ ایک بڑے بگاڑ سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کینیڈا کو ماضی کے قواعد پر مبنی عالمی نظام سے فائدہ پہنچا، جس میں امریکی بالادستی نے اہم عوامی سہولیات فراہم کیں، جن میں آزاد بحری راستے، مستحکم مالی نظام، اجتماعی سلامتی اور تنازعات کے حل کے فریم ورک شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ایک نئی حقیقت سامنے آ چکی ہے، یہ ایک ایسا نظام ہے، جہاں طاقتور ممالک معاشی انضمام کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں۔
بڑی طاقتوں کو خوش کرنے کی پالیسی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہاکہ کینیڈا جیسے ممالک اب یہ امید نہیں رکھ سکتے کہ محض تابعداری انہیں تحفظ فراہم کرے گی۔
مزید پڑھیں: امریکا اور کینیڈا کے طیارے جلد گرین لینڈ پہنچیں گے، مشترکہ دفاعی کمانڈ کا اعلان
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز ڈیووس پہنچہنچے جہاں گرین لینڈ پر قبضے کے حوالے سے ان کا مؤقف یورپی رہنماؤں کے ساتھ شدید کشیدگی کا سبب بن گیا۔
ان کی اس پالیسی کو نیٹو کے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔














