گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن 5 روز سے جاری ہے، لگنے والی آگ سے شدید جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے جبکہ عمارت کو مکمل طور پر ناقابل استعمال قرار دیا جا چکا ہے۔
گل پلازہ سے ابتک 60 کے قریب لاشیں نکالی جا چکی ہیں ایس ایس پی سٹی پولیس کی نے تصدیق کی ہے کہ میزنائن فلور کی ایک دکان دبئی کراکری سے 20 سے 25 لاشیں ملی ہیں ان لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے یہ صرف ہڈیاں ہیں جبکہ اس تعداد میں اضافہ متوقع ہے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تعداد 100 سے تجاوز کر جائے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ اب بھی شہریوں کی جانب سے اپنے لاپتا لواحقین کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے۔
مزید پڑھیں: اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات
ریسکیو حکام اس وقت گل پلازہ کے اندر لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اس تلاش یا ریسکیو آپریشن کی رفتار انتہائی سست ہے، گل پلازہ سے منسلک ریمپا پلازہ کے حوالے سے بھی کہا جا رہا ہے کہ اسے ریسکیو آپریشن کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے، ریمپا پلازہ کے پلزر کو نقصان پہنچا ہے جس کے باعث آج اس عمارت کے متاثرہ حصہ کو جیک کا سہارا دیا گیا ہے تا کہ آپریشن میں اس عمارت سے مدد حاصل کی جا سکے۔
ریسکیو، نظم و نسق اور ذمہ داری—مئیر کراچی ثابت کر رہے ہیں کہ قیادت کیسے کی جاتی ہے۔
#Karachi #گل_پلازہ #GullPlaza #RescueOperation #کراچی #gulplaza #karachi #SonOfKarachi pic.twitter.com/91tEfqFbyo
— Karachi — the City of Lights. (@KarachiKing07) January 20, 2026
آج گل پلازہ سے انسانی اعضا نکالے گئے ہیں اور ان اعضا کی شناخت کے لیے سیمپلز لیے گئے ہیں، ریسکیو حکام کے مطابق اس وقت عمارت کے اندر کی صورت حال کو دیکھ کر لگتا ہے کہ عمارت کی تپش سے مکمل جسم ملنا اب شاید ممکن نا ہو کیوں کہ عمارت کی درجہ حرارت بہت زیادہ ہے۔














