پاکستان، سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ اور قطر کے وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت کا خیرمقدم کیا ہے۔
تمام ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس فورم میں شمولیت کے حوالے سے اپنی اپنی حکومتوں کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے صدر ٹرمپ کی ‘غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی
اعلامیے کے مطابق رکن ممالک اپنی آئینی اور قانونی ضروریات کے تحت شمولیتی دستاویزات پر دستخط کریں گے۔ مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے فیصلے کا اعلان کر چکے ہیں۔
🔊PR No.2️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement on the Board of Peacehttps://t.co/eRBcSP2VRn
🔗⬇️ pic.twitter.com/HBQHxXxI32— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 21, 2026
مشترکہ اعلامیے میں صدر ٹرمپ کی قیادت میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ متعلقہ ممالک بورڈ آف پیس کے مشن پر مکمل عملدرآمد کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔
اعلامیے کے مطابق یہ مشن غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے تیار کردہ جامع منصوبے کے تحت ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرے گا، جس کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے ذریعے کی جا چکی ہے۔
مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصد مستقل جنگ بندی کو مضبوط بنانا، غزہ کی تعمیرِ نو میں مدد فراہم کرنا اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کو فروغ دینا ہے۔
اعلامیے میں امید ظاہر کی گئی کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق خطے کے تمام ممالک اور عوام کے لیے امن، سلامتی اور استحکام کی راہ ہموار کریں گے۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ پاکستان اپنے برادر عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر غزہ میں دیرپا امن کے قیام اور اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے حقِ خودارادیت کو یقینی بنانے کے لیے پہلے بھی کام کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی یہ تعاون جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کو غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، پاکستان کا مؤقف ہے کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔










