لاطینی امریکا بھر میں پھیلے وینزویلا کے متعدد تارکین وطن یہ سوچنے لگے ہیں کہ آیا وہ مستقبل میں اپنے وطن واپس جا سکتے ہیں یا نہیں، کیونکہ امریکا کی جانب سے طویل عرصے سے برسر اقتدار رہنے والے رہنما نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد جمہوری انتخابات اور معاشی بحران سے نکلنے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔
2014 کے بعد سے وینزویلا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی لاطینی امریکا، کیریبین، اسپین اور امریکا منتقل ہو چکی ہے۔ تیل پر انحصار کرنے والی معیشت بدانتظامی کے باعث شدید بحران کا شکار رہی، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد کو ملک چھوڑنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا ماچادو نے اپنا نوبیل انعام صدر ٹرمپ کو پیش کردیا
کولمبیا میں مقیم وینزویلا کے تارکین وطن میں سے ایک ڈاکٹر خوان کارلوس ویلوریا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک واپس جا کر تعمیر نو میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ کولمبیا اس وقت لاطینی امریکا میں وینزویلا کے سب سے زیادہ تارکین وطن کی میزبانی کر رہا ہے۔
تاہم ان کے مطابق سابق نائب صدر ڈیلسی رودریگز کی جانب سے اقتدار پر گرفت مضبوط ہونے، حکومتی جبر اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث بہت سے لوگ ابھی واپسی سے ہچکچا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شمال مشرقی کولمبیا کی سرحدی برادریوں میں ایسے افراد کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے جو عارضی طور پر روزگار کمانے کے لیے کولمبیا آ رہے ہیں، جبکہ وینزویلا میں حالات کے بہتر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے وینزویلا کے تیل کی فروخت شروع کر دی ، 500 ملین ڈالر کی رقم اکاؤنٹس میں محفوظ
اوپیک کے رکن ملک وینزویلا سے تقریباً 8 ملین افراد کے انخلا نے پورے براعظم امریکا کی آبادیاتی ساخت کو متاثر کیا ہے۔ امریکا میں جنوبی سرحد پر وینزویلا کے شہریوں کی بڑی تعداد نے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
کچھ تارکین وطن اپنے نئے ممالک میں بس چکے ہیں اور دوبارہ ہجرت ان کے لیے آسان فیصلہ نہیں ہوگا، تاہم ان کی واپسی یا مستقل قیام کا فیصلہ وینزویلا کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
چلی میں مقیم نکول کیراسکو، جو 2019 میں اپنے والد کی گرفتاری کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئیں، کا کہنا ہے کہ سیاسی قیدیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ابھی حالات تبدیل نہیں ہوئے۔ وہ اپنے اہل خانہ سے ملنے اور روایتی کھانے کھانے کی خواہش رکھتی ہیں، مگر موجودہ حالات میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ’وینزویلا کا عبوری صدر‘ قرار دے دیا
اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو، جن کے امیدوار کو 2024 کے انتخابات میں اصل فاتح سمجھا گیا، اقتدار کی جلد منتقلی کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ وینزویلا کے شہری واپس اپنے وطن لوٹ سکیں۔
اگرچہ قلیل مدت میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، تاہم کئی تارکین وطن کو امید ہے کہ طویل مدت میں تبدیلی مثبت ثابت ہوگی۔ پاناما کے راستے میکسیکو سے واپس وینزویلا جانے والے لوئس دیاز کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ تبدیلی اچھی ہوگی یا بری، لیکن اب کچھ نیا شروع ہونے جا رہا ہے۔
اسی طرح وینزویلا کے ایک اور تارک وطن عمر الواریز نے امید ظاہر کی کہ محنت اور استحکام کے ساتھ وینزویلا دوبارہ رہنے کے لیے ایک بہتر ملک بن سکتا ہے۔














