معزول بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد جوئے نے کہا ہے کہ ان کی والدہ پہلے ہی سیاست سے علیحدگی کا ارادہ رکھتی تھیں، اور اقتدار سے ہٹایا جانا ایک طرح سے حسینہ دور کے خاتمے کے مترادف ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں ٹی وی چینل الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں سجیب واجد جوئے نے بتایا کہ شیخ حسینہ عمر رسیدہ ہو چکی ہیں اور ان کی حالیہ حکومتی مدت آخری مدت ہونی تھی۔
’وہ ریٹائر ہونا چاہتی تھیں‘
سجیب واجد جوئے کا کہنا تھا ’میری والدہ بوڑھی ہو چکی ہیں۔ یہ مدت ان کی آخری مدت ہونی تھی۔ وہ ریٹائر ہونا چاہتی تھیں۔‘
عوامی لیگ حسینہ واجد کے بغیر بھی قائم رہے گی
انہوں نے کہا کہ عوامی لیگ شیخ حسینہ کی قیادت کے بغیر بھی اپنا وجود برقرار رکھے گی۔
یہ بھی پڑھیے حسینہ واجد عام انتخابات میں بھاری کامیابی کیسے حاصل کرتی رہیں؟
’یہ 70 سال پرانی جماعت ہے، یہ ان کے ساتھ ہو یا بغیر، قائم رہے گی۔ کوئی ہمیشہ زندہ نہیں رہتا۔‘
احتجاج، تشدد اور اقتدار سے برطرفی
یاد رہے کہ شیخ حسینہ کو اگست 2024 میں کئی ہفتوں پر محیط شدید عوامی احتجاج کے بعد ملک سے فرار ہوکر بھارت میں پناہ لینا پڑی تھی۔ سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1,400 تھی، جس پر ملکی و عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی۔
آڈیو لیکس پر ردعمل
الجزیرہ اور بی بی سی کی رپورٹس میں سامنے آنے والی آڈیو ریکارڈنگز، جن میں شیخ حسینہ واجد پر مہلک طاقت کے استعمال کی اجازت دینے کا الزام ہے، ان پر سجیب واجد جوئے نے کہا کہ یہ کلپس سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے ’سیدھی گولی ٹھوک دو‘ شیخ حسینہ واجد کی ٹیلی فون کال پر مبنی مصدقہ ثبوت سامنے آگئے
ان کا کہنا تھا کہ یہ احکامات امن پسند مظاہرین کے خلاف نہیں بلکہ شدت پسند عناصر سے جان و مال کے تحفظ کے لیے دیے گئے تھے۔
حوالگی کے معاملے پر بھارت کا مؤقف
بنگلہ دیش کی جانب سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کے مطالبے پر سجیب واجد جوئے نے کہا کہ بھارت انہیں بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کرے گا کیونکہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں اور بھارت قانونی تقاضوں کی پاسداری کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال بھارت شیخ حسینہ کے لیے سب سے محفوظ جگہ ہے، اگرچہ وہ وطن واپس جا کر پرسکون ریٹائرمنٹ گزارنا چاہتی ہیں۔
تشدد کے الزامات کی تردید
عوامی لیگ پر تشدد بھڑکانے اور نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل سے تعلق کے الزامات پر سجیّب واجد جوئے نے سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے پاس اس وقت بنگلہ دیش میں قتل کروانے کی صلاحیت ہوتی تو کیا یہ موجودہ حکومت قائم رہتی؟













