سپریم کورٹ نے قصور میں 5 افراد کے قتل سے متعلق کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 6 ملزمان کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے تمام اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔
عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے مدعی مقدمہ کی جانب سے سزائیں بڑھانے کی درخواست بھی خارج کردی۔
یہ فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کی 3 رکنی بینچ نے سنایا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: بیوی کے قتل میں نامزد ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی خامی یا سقم موجود نہیں ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے عینی شاہدین کی گواہی قابلِ اعتماد ہے جبکہ میڈیکل رپورٹس میں مقتولین کے جسموں پر متعدد گولیوں کے زخموں کی تصدیق ہوتی ہے۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کا پوسٹ مارٹم رات کے وقت فوری طور پر کیا گیا اور واقعے کی ایف آئی آر بھی بلا تاخیر درج کی گئی، جواستغاثہ کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے۔
یاد رہے کہ جنوری 2014 میں قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد ٹول پلازہ کے قریب اندھا دھند فائرنگ کے واقعے میں 5 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے زنا بالجبر کے ملزم مدثر کی ضمانت منظور کر لی
اس واقعے سے متعلق درج کیس میں ٹرائل کورٹ نے 7 ملزمان کو 4 بار سزائے موت سنائی تھی جبکہ 3 ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے ایک ملزم کو بری کر دیا تھا جبکہ 6 ملزمان کی سزائے موت کوعمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے اسی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ملزمان اور مدعی دونوں کی اپیلیں خارج کردیں۔














