سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کے قتل کے مقدمے میں ملزم ابرار کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ٹرائل کورٹ نے ملزم ابرار کو اپنی بیوی زینت بی بی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جبکہ مقتولہ کے والد پر فائرنگ کرنے کے الزام میں 7 سال قید کی سزا بھی دی گئی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ: بیوی کے قتل کے مقدمے میں ملزم کی بریت کی درخواست پر سماعت، فیصلہ محفوظ
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اسلحہ کی برآمدگی اور فارنزک شواہد ناقابلِ بھروسہ ہیں۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے خالی خول 37 دن کی تاخیر سے فارنزک لیبارٹری بھجوائے گئے، جبکہ اسلحہ کی برآمدگی کے وقت کوئی آزاد گواہ بھی موجود نہیں تھا۔
عدالت کے مطابق ملزم نے 17 جنوری 2020 کو اپنے سسرال میں فائرنگ کر کے بیوی کو قتل کیا اور اسی دوران مقتولہ کے والد کو بھی زخمی کیا تھا۔
اس مقدمے کی سماعت جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔













