وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان رواں ماہ کے اختتام تک پہلی مرتبہ چینی کیپٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا کے ساتھ قدم رکھنے جا رہا ہے، جو گرین بانڈ کی شکل میں ہوگا۔
وزیر خزانہ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اس اقدام کو پائیدار اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں مضبوط مالیاتی نظام کے لیے پاکستان کے عزم کا عکاس قرار دیا۔
’یہ پہلی بار ہے کہ ہم اس ماہ کے اختتام تک افتتاحی پانڈا بانڈ جاری کرنے جا رہے ہیں، اور یہ مکمل طور پر پائیدار فائنانس کے تناظر میں ہے، ایک ملک کے طور پر پاکستان موسمیاتی مالیات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اسی لیے یہ گرین بانڈ ہمارے لیے معاون ثابت ہوگا۔‘
یہ بھی پڑھیں: پاکستان جنوری میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرے گا، وزارت خزانہ کا اعلان
ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی پینل مباحثے میں گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پانڈا بانڈ دراصل چینی کرنسی رینمنبی میں جاری کیا جانے والا وہ بانڈ ہوتا ہے جو کوئی غیر چینی ادارہ، جیسے غیر ملکی کمپنی یا حکومت، چین کی مقامی مالیاتی منڈی میں جاری کرتی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق اس کے ذریعے جاری کنندہ کو چینی سرمایہ کاروں تک رسائی ملتی ہے اور رینمنبی کی بین الاقوامی حیثیت کو بھی فروغ ملتا ہے۔
محمد اورنگزیب نے مالیاتی نظم و ضبط، قرضوں کے بامقصد استعمال اور برآمدات پر مبنی ترقی کو معاشی نمو کے نئے ذرائع کھولنے کے بنیادی راستے سے تعبیر کیا، ابھرتی معیشتوں کے نقطۂ نظر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرض بذاتِ خود منفی چیز نہیں، بشرطیکہ اسے پیداواری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
Bond, denominated in Renminbi, is part of the country’s push to access sustainable and climate-resilient financing
Read: https://t.co/JVXGGkQ5Ry pic.twitter.com/hF17N73TAF
— Profit (@Profitpk) January 22, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ قرضوں کو صرف کھپت کے بجائے ایسی سرمایہ کاری کی طرف موڑا جائے جو برآمدی سرپلس پیدا کرے، تاکہ پائیدار ادائیگی اور طویل المدتی ترقی ممکن ہو سکے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ابھرتی معیشتوں کے پاس ریزرو کرنسی کی سہولت نہیں ہوتی، اس لیے انہیں منڈی کی کارکردگی، محتاط قرض گیری اور زرمبادلہ کے خطرات کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانا پڑتا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کا چینی مارکیٹ میں 30 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز فروخت کرنے کا فیصلہ
انہوں نے زور دیا کہ غیر پائیدار قرضوں کی صورتحال بنیادی طور پر کمزور مالیاتی نظم و ضبط کا نتیجہ ہوتی ہے، پاکستان نے قرض اور جی ڈی پی کے تناسب کو 75 فیصد سے کم کرکے 70 فیصد تک لایا ہے، پرائمری سرپلس حاصل کیا ہے اور ذمہ دارانہ معاشی نظم و نسق کے ذریعے مالیاتی توازن بحال کیا ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے، جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے زائد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گیا ہے، جس سے ملک شرحِ سود کے درست مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں:وفاقی وزیر خزانہ کا دورہ امریکا، پاکستان کی آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر فنڈنگ کی باقاعدہ درخواست
ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دیگر کمزور ابھرتی معیشتوں کے لیے موسمیاتی خطرات حقیقی، بار بار آنے والے اور معاشی طور پر تباہ کن ہیں، انہوں نے بتایا کہ مالیاتی ذخائر کی تعمیر سے پاکستان کو حالیہ سیلابوں کا مقابلہ بین الاقوامی ہنگامی اپیلوں کے بجائے اپنے وسائل سے کرنے میں مدد ملی، جو مالیاتی استحکام کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے ماحولیاتی موافقت اور ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور کیپیٹل مارکیٹس کے کردار کو بھی اجاگر کیا، اور پاکستان کے سب سے بڑے 3.6 ارب ڈالر کے سنڈیکیٹڈ فائنانسنگ منصوبے کی مثال دی۔
مزید پڑھیں: چینی کرنسی میں بانڈ کا اجرا: کیا پاکستان ڈالر پر انحصار کم کر سکے گا؟
ان کے مطابق یہ منصوبہ 2028 سے سالانہ تقریباً 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات کا باعث بنے گا، جس سے پاکستان کی برآمدی بنیاد مضبوط ہوگی اور عالمی توانائی کی منتقلی کی ضروریات کو بھی سہارا ملے گا۔
ٹیکنالوجی فائنانسنگ اور نئی معیشت سے متعلق سوال کے جواب میں وزیرِ خزانہ نے آئی ٹی، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل سروسز میں پاکستان کی نمایاں صلاحیت پر زور دیا اور آئی ٹی برآمدات میں حالیہ اضافے کے ساتھ ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ، بلاک چین اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں جاری سرمایہ کاری کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ فنڈز تک رسائی نہیں بلکہ استعداد سازی، ترجیحات کے درست تعین اور مؤثر عملدرآمد ہے، تاکہ مواقع کو پائیدار ترقی میں بدلا جا سکے۔













