وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے

جمعرات 22 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں ہونے والے اجلاس میں غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے ہیں۔

دوسرے عالمی رہنماؤں کے ہمراہ دستخطی تقریب میں وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ چارٹر پر دستخط کیے اور امریکی صدر سے مصافحہ اور گفتگو کی۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان نے صدر ٹرمپ کی ‘غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور حماس نے غیر مسلح ہونے کا وعدہ کیا ہے، تاہم اگر اس نے ہتھیار نہ چھوڑے تو ’ان کا خاتمہ کر دیا جائے گا‘۔

’یہ ایک تاریخی اور پُرجوش دن ہے‘

صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اس دن کو ’’انتہائی پُرجوش اور طویل عرصے سے تیاری میں رہنے والا دن‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک ان کے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور وہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔

8 جنگیں ختم کرنے کا دعویٰ

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ اب تک 8 جنگیں ختم کرا چکے ہیں اور ایک اور بڑا معاہدہ بہت جلد ہونے جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یوکرین جنگ کو سب سے مشکل مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ تنازع ہے جسے وہ آسان سمجھ رہے تھے مگر یہ سب سے پیچیدہ ثابت ہوا۔

غزہ اور مشرقِ وسطیٰ پر سخت مؤقف

امریکی صدر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل میں 59 ممالک شامل ہیں اور کئی ممالک نے ’بورڈ آف پیس‘ کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حماس نے اپنے وعدے پورے نہ کیے اور ہتھیار نہ ڈالے تو یہ ان کا انجام ہوگا۔ انہیں اسلحہ ترک کرنا ہوگا۔

ایران اور داعش کے خلاف کارروائیوں کا ذکر

ٹرمپ نے ایران کے جوہری مراکز پر گزشتہ موسمِ گرما میں ہونے والی کارروائی ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے اور جلد مذاکرات ہوں گے، جبکہ شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔

’دنیا میں کشیدگی کم ہو رہی ہے‘

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورپ، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کو لاحق خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور ’دنیا میں کئی اچھی پیش رفت ہو رہی ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل دنیا آگ میں جل رہی تھی، مگر اب صورتحال پرسکون ہو رہی ہے۔

پاک بھارت جنگ کا حوالہ، شہباز شریف کا ذکر

ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ کی کوششوں سے کروڑوں جانیں بچیں۔

انہوں نے کہا کہ 8 جنگیں ختم کرنے کے بعد کئی عالمی رہنما ان کے دوست بن چکے ہیں۔

امریکا کی معیشت پر دعوے

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے دورِ حکومت میں امریکا معاشی طور پر مضبوط ہوا، جبکہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں معیشت تباہ حال اور غیر قانونی امیگریشن عروج پر تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایک سال میں ’معجزہ‘ ہوا ہے، ٹیکسوں میں کمی کی جا رہی ہے اور بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں۔

خطاب کے اختتام پر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں موجود سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ٹونی، آپ کا یہاں ہونا ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp