ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شِنگلز (ہرپس زوسٹر) ویکسین بزرگ افراد میں حیاتیاتی عمر کے عمل کو سست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چکن پاکس کیا ہے اور بچوں کو اس سے بچاؤ کی ویکسین کیسے لگوائی جاسکتی ہے؟
اس تحقیق کے مصنفین، یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے ماہرین عمرانیات جنگ کی کم اور ایلین کرمنز کے مطابق شِنگلز ویکسین کے اثرات نہ صرف وسیع بلکہ طویل المدتی ہیں اور یہ عمر بڑھنے سے متعلق مختلف حیاتیاتی عمل کو متاثر کرتی ہے۔
تحقیق کے دوران امریکا میں 70 سال یا اس سے زائد عمر کے 3,800 سے زائد افراد کو شِنگلز ویکسین دی گئی۔ ویکسین لگوانے کے بعد ان شرکا کی حیاتیاتی عمر اوسطاً 60 سال کے برابر دیکھی گئی جو ان کی اصل عمر سے نمایاں طور پر کم تھی۔
ماہرین کے مطابق ویکسین لگوانے والے افراد میں سوزش کی سطح کم اور مالیکیولر و مجموعی حیاتیاتی عمر بڑھنے کا عمل سست پایا گیا۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں تیزی سے بڑھتا موٹاپا، عوام اور ماہرین کیا کہتے ہیں؟
جنگ کی کم کا کہنا تھا کہ ویکسین پس منظر میں موجود سوزش کو کم کرنےاور وائرس کی دوبارہ سرگرمی کو روکنے میں مدد دیتی ہے اور یوں یہ صحت مند بڑھاپے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اس کے مکمل حیاتیاتی طریقہ کار کو ابھی سمجھنا باقی ہے تاہم سوزش میں کمی کی صلاحیت ویکسین کو عمر سے متعلق کمزوریوں کو سست کرنے کی جامع حکمتِ عملی کا ایک مؤثر حصہ بناتی ہے۔
واضح رہے کہ شِنگلز جسے ہرپس زوسٹر بھی کہا جاتا ہے دراصل وہی وائرس ہے جو بچپن میں چکن پاکس کا سبب بنتا ہے اور بعد ازاں جسم میں غیر فعال رہنے کے بعد دوبارہ متحرک ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستانی نوجوانوں میں بڑی آنت کے کینسر کی کیا وجوہات ہیں؟
شِنگلز عام طور پر نوجوانوں کے لیے خطرناک نہیں ہوتا اور زیادہ تر 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو متاثر کرتا ہے اس لیے اس ویکسین کی سفارش عمر رسیدہ افراد کو کی جاتی ہے۔ تاہم یہ بھی قابل ذکر ہے کہ بغیر ویکسین لگوائے گئے افراد میں سے تقریباً 30 فیصد اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر شِنگلز کا شکار ہو سکتے ہیں۔














