جاپان میں دنیا کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کی بحالی معطل کر دی گئی، جبکہ پلانٹ کے آپریٹر نے کہا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ مسئلہ کب تک حل ہوسکے گا۔
نیگاتا صوبے میں واقع کاشیوازاکی کاریوا نیوکلیئر پاور پلانٹ 2011 میں فوکوشیما جوہری حادثے کے بعد سے بند تھا، تاہم جوہری ریگولیٹر کی حتمی منظوری کے بعد بدھ کے روز اس کی بحالی کا عمل شروع کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان نے سونامی سے تباہ شدہ فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ 15 سال بعد فعال کردیا
تاہم آپریٹر ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کے مطابق جمعرات کو ری ایکٹر اسٹارٹ اپ کے دوران مانیٹرنگ سسٹم سے ایک الارم بجا، جس کے باعث کارروائیاں روک دی گئیں۔
سائٹ سپرنٹنڈنٹ تاکی یوکی اناگاکی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ مسئلہ ایک یا دو دن میں حل ہونے کی توقع نہیں، اور اس وقت یہ کہنا ممکن نہیں کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ ان کے مطابق فی الحال تمام توجہ مسئلے کی اصل وجہ جاننے پر مرکوز ہے۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق الارم بجنے کے بعد برقی آلات میں خرابی کی تحقیقات شروع کی گئیں، اور جب واضح ہوا کہ اس میں وقت لگے گا تو منصوبہ بندی کے تحت کنٹرول راڈز دوبارہ ری ایکٹر میں داخل کر دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ری ایکٹر مستحکم ہے اور پلانٹ کے باہر کسی قسم کے تابکار اثرات نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان کے ایٹمی پروگرام کے افسر کا حساس معلومات پر مبنی اسمارٹ فون چین میں گم ہوگیا
کنٹرول راڈز ری ایکٹر کے اندر جوہری عمل کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جنہیں باہر نکالنے سے عمل تیز اور اندر داخل کرنے سے سست یا مکمل طور پر روک دیا جاتا ہے۔
پلانٹ کی بحالی کا عمل ابتدا میں منگل کے روز طے تھا، تاہم گزشتہ ہفتے کنٹرول راڈز کے اخراج سے متعلق ایک تکنیکی مسئلے کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا، جو اتوار کو حل ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
کاشیوازاکی کاریوا ممکنہ پیداواری صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر ہے، اگرچہ اس وقت اس کے 7 میں سے صرف ایک ری ایکٹر کو بحال کیا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان میں زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ، 36 ہزار گھر انے بجلی سے محروم
یہ پلانٹ اس وقت بند کیا گیا تھا جب 2011 میں شدید زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں فوکوشیما کے 3 ری ایکٹرز کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد جاپان نے جوہری توانائی کا استعمال روک دیا تھا۔
تاہم وسائل کی کمی کا شکار جاپان اب ایٹمی توانائی کی بحالی چاہتا ہے تاکہ فوسل فیول پر انحصار کم کیا جا سکے، 2050 تک کاربن نیوٹرل اہداف حاصل کیے جا سکیں اور مصنوعی ذہانت سمیت بڑھتی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
یہ 2011 کے بعد ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کے زیر انتظام پہلا یونٹ ہے جسے دوبارہ چلانے کی کوشش کی گئی۔ یہی کمپنی فوکوشیما دائیچی پلانٹ بھی چلاتی ہے، جسے اس وقت مرحلہ وار بند کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روسی افواج کی دفاعی پوزیشن، یوکرینی نیوکلیئر پاور پلانٹ کی حفاظت خطرے میں
نیگاتا میں عوامی رائے منقسم ہے۔ ستمبر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد رہائشی پلانٹ کی بحالی کے مخالف جبکہ 37 فیصد اس کے حامی ہیں۔
ایک 73 سالہ مقامی رہائشی نے احتجاج کے دوران کہا کہ یہاں خطرہ مول لیا جا رہا ہے جبکہ بجلی ٹوکیو کے لیے پیدا کی جاتی ہے، جو کسی طور درست نہیں۔
اس ماہ کے آغاز میں بحالی کی مخالفت کرنے والے 7 گروپس نے تقریباً 40 ہزار دستخطوں پر مشتمل درخواست جمع کرائی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ یہ پلانٹ ایک فعال زلزلہ فالٹ زون پر واقع ہے اور 2007 میں بھی ایک شدید زلزلے سے متاثر ہو چکا ہے۔













