کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والے سانحے کے حوالے سے تحقیقاتی حکام نے ابتدائی رپورٹ جاری کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ سے ملنے والی انسانی باقیات کی حالت خراب، ڈی این اے کا حصول بھی ناممکن ہوگیا
مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی مختلف رپورٹس کے مطابق آگ مصنوعی پھولوں کی دکان میں بچوں کے کھیلنے کے دوران لگی اور یہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے نہیں ہوئی۔
رپورٹس میں کہا گیا کہ ممکنہ طور پر بچے دکان میں ماچس یا لائٹر کے ساتھ کھیل رہے تھے جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر آگ دکان میں موجود سامان میں پھیل گئی اور بعد ازاں بجلی کی تاروں تک جا پہنچی۔
آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگنے لگے تاہم بعض دروازے بند ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔
عمارت میں موجود زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی تھیں جس سے حالات مزید خطرناک ہو گئے۔
مزید پڑھیے:؛ کراچی: گل پلازہ کی دکان سے 20 سے 25 لاشیں مل گئیں، کل تعداد 60 تک پہنچ گئی
مزید برآں عمارت کی چھت کے راستے پر بھی گرل لگی ہوئی تھی اور آگ لگنے سے عمارت میں موجود سی سی ٹی وی سسٹم مکمل طور پر متاثر ہوا جس سے وقوعہ کی نگرانی میں مشکلات پیش آئیں۔
مزید پڑھیں: اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات
رپورٹ کی تیاری میں عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ سانحے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔













