ماہرین آثارِ قدیمہ نے انڈونیشیا میں دنیا کا قدیم ترین فن پارہ دریافت کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھائی ہزار سال پرانی ’آئس ممی‘ کا ٹیٹو سنگھار، ماہر آرٹسٹ بھی ایسی تخلیق سے قاصر
محققین کے مطابق انڈونیشیا کے جزیرے مونا کے چونے کے پتھر کے غاروں میں بنائے گئے نقوش کی عمر 67 ہزار 800 سال تک ہو سکتی ہے جو انہیں دنیا کی اب تک دریافت ہونے والی قدیم ترین تصویریں کہلائی جاسکتی ہیں۔
یہ نئی دریافت اسی تحقیقی ٹیم کی جانب سے سنہ 2024 میں سولاویسی کے علاقے میں ملنے والی غاروں کی پینٹنگز سے 15 ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔
انڈونیشیا، مشرقی تیمور اور آسٹریلیا کا خطہ دنیا کے قدیم ترین آثارِ قدیمہ کے لیے جانا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ غاروں کی پینٹنگز اس نظریے کو تقویت دیتی ہیں کہ ابتدائی انسانوں نے سولاویسی کے راستے ہجرت کی تھی۔
مزید پڑھیے: پشاور کی خوبصورتی دوبالا کرتا ہوا ٹرک آرٹ
انڈونیشیا کی نیشنل ریسرچ اینڈ انوویشن ایجنسی سے وابستہ ماہرِ آثارِ قدیمہ ادھی آگس اوکٹاوِیانا نے کہا کہ یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے آبا و اجداد نہ صرف بہترین ملاح بلکہ فنکار بھی تھے۔
پینٹنگز کیسے بنائی گئیں؟
انڈونیشین اور آسٹریلوی محققین کے مطابق یہ تصویریں اوکر (مٹیالے سرخ رنگ) سے بنائی گئیں جن میں ہاتھ غار کی دیوار پر رکھ کر رنگ پھونکا گیا جس سے ہاتھ کا خاکہ بن گیا۔
یہ نشانات غار میں موجود بعد کی پینٹنگز کے نیچے پائے گئے جن میں ایک انسان کو مرغی کے ساتھ گھوڑے پر سوار دکھایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاک چین گندھارا ثقافتی نوادرات کی مشترکہ نمائش، قدیم ترین نمونے پیش
ماہرین نے بتایا کہ ایک ہاتھ کے نقش میں انگلیوں کو جانور کے پنجوں جیسی نوکدار شکل دی گئی تھی جو ایک منفرد انداز ہے اور صرف سولاویسی کے علاقے میں دیکھا گیا ہے۔
کینیڈین ماہر آثار قدیمہ ایڈم برم کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فنکار جان بوجھ کر انسانی ہاتھ کو کسی جانور کے پنجے میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے گہرا ثقافتی اور علامتی مفہوم ہو سکتا ہے جو شاید انسان اور جانوروں کے درمیان تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔
عمر کا تعین کیسے ہوا؟
پینٹنگز کی عمر جانچنے کے لیے ماہرین نے غار کی دیواروں پر موجود کیلشیم کے چھوٹے ذرات، جنہیں ’کیو پاپ کارن‘ کہا جاتا ہے، کے نمونے حاصل کیے۔ ان نمونوں پر لیزر کے ذریعے یورینیم اور تھوریم کے تناسب کا تجزیہ کیا گیا جس سے فن پارے کی کم از کم عمر کا درست تعین ممکن ہوا۔
ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا کہ ان غاروں کو ہزاروں سال تک بار بار فن پاروں کے لیے استعمال کیا گیا اور بعض پینٹنگز پر 35 ہزار سال بعد دوبارہ نقش و نگار بنائے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: ’کھودا پہاڑ نکلا تابنا‘، اٹلی کی سبز ممی کا معمہ حل ہوگیا!
ماہرین کے مطابق یہ دریافت نہ صرف انسانی تخلیقی صلاحیت کی قدامت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ بھی سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ انسان پہلی بار آسٹریلیا تک کیسے پہنچے۔














