جب کسی قوم کی قیادت ایسے شخص کے ہاتھ میں آ جائے جو آئین کے بجائے آئینہ دیکھ کر فیصلے کرے تو وہ ملک ریاست کم اور اس شخص کی نفسیاتی تجربہ گاہ زیادہ بن جاتا ہے۔
تاریخ ہمیں بار بار بتاتی ہے کہ ایسے لیڈر قوموں کو عظمت نہیں ملبہ دیتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کے نزدیک ایسا لیڈر اپنی غیر معمولی برتری کا قائل ہوتا ہے، اس حد تک کہ خود کو چنا ہوا بھی سمجھ لیتا ہے۔ اسے دوسروں کے احساسات کی رتی برابر پروا نہیں ہوتی، سو توہین اس کا پسندیدہ ہتھیار ہوتا ہے۔ ایسے لیڈر خوشامد کی شدید طلب رکھتے ہیں، سو ان کے آس پاس بکثرت وہی پائے جاتے ہیں جو حد درجہ خوشامدی ہوتے ہیں۔
یہ طاقت اور کنٹرول کے حصول کے لیے مرے جاتے ہیں، لیکن طاقت حاصل ہونے کے بعد اپنے غلط فیصلوں کے برے نتائج قبول نہیں کرتے۔ ناکامیوں کا الزام یہ ہمیشہ دوسروں کے ہی کھاتے میں ڈالتے ہیں۔
اقتدار میں آنے کے بعد ملک، آئین اور پارٹی کی حیثیت ان کے لیے ثانوی ہوجاتی ہے، یہ اپنی ذات کو ہی مرکز بنا لیتے ہیں۔ انہیں بری خبروں سے چڑ ہوتی ہے، سو یہ مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی بجائے اس میں سازش ڈھونڈنے لگتے ہیں کیونکہ ان کو لگتا ہے سازش کو ناکام کرنا ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ اور اگر نہ ہونے کے سبب سازش پکڑ میں نہ آئے تو اس کا مطلب یہ لے لیتے ہیں کہ سازش بہت ہی گہری ہے۔ یوں یہ سازشیوں کو اندازوں کی بنیاد پر پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ چیز اگر زیادہ شدت اختیار کرلے تو اس کی بدترین مثال جوزف سٹالن کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ جس نے اتنے سازشی قتل کئے کہ ان کی تعداد 50 لاکھ کے آس پاس پہنچ گئی۔ اس باب میں اس نے کمیونسٹ لیڈروں کو بخشا اور نہ ہی 3 اور فور سٹار جرنیلوں کو۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کے انڈے
ایک بے حد اہم چیز یہ کہ ایسے لیڈر کو مستقل بنیاد پر ایک ایسا دشمن ضرور درکار ہوتا ہے جسے ہدف بنا کر یہ اپنی انا کی تسکین کرسکے۔ اور ایسا کرتے ہوئے وہ تمام اخلاقی حدیں عبور کرجانا اپنا حق سمجھتا ہے۔ گویا یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح اس خبط کا شکار رہتا ہے کہ اخلاق کا منبع بھی اس کی اپنی ذات ہے۔ ایسے لیڈر کا ایک اور اہم رویہ یہ ہوتا ہے کہ یہ انتخابی مہم کو انقلابی جد و جہد اور انتخابی فتح کو ’انقلاب‘ برپا ہونا مانتا ہے۔
یہاں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال سب کے سامنے ہے۔ جس کے نزدیک اس کی پہلی فتح انقلاب تھا، سنہ 2020 کی شکست انقلاب کے خلاف سازش اور حالیہ عرصہ اقتدار سازش پر انقلاب کا قابو پاجانا ہے۔ زیر نظر سطور کا موضوع ڈونلڈ ٹرمپ نہیں۔ بیان کیے گئے پس منظر کو ذہن میں رکھ کر آیئے ہمارے اپنے لوکل ’ہیرو‘ کی جانب۔
آپ یقینا حیران ہوں گے کہ پولیٹکل لیڈرز سے بات یکدم ہیروز کی طرف کیسے جا نکلی؟ تو ایسا ہے کہ ذکر اب بھی لیڈر کا ہی ہے مگر وہ چونکہ جنریشن زی کے لیڈر ہیں سو معاملات آپ کو اوٹ پٹانگ ہی نظر آئیں گے۔ مثلاً سیاسی لیڈر اگر بڑے قد کاٹھ کا ہو تو اسٹیٹس مین یعنی مدبر کا خطاب پاتا ہے۔ لیکن ہماری جنریشن زی نے اپنے لیڈر کو ’ہینڈسم‘ کا وہ خطاب عطا کیا جو شوبز سے نسبت رکھتا ہے، شوبز بولے تو ہیرو۔ اور خیر سے ہمارے ہیرو کی اصل نسبت بھی اسپورٹس کے زاویے سے شوبز ہی سے رہی ہے۔ گویا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کا قدر مشترک صرف خود پسندی کا نہیں بلکہ لائٹس، کیمرہ کلکس کا بھی ہے۔ ایسے لیڈرز کا سب سے بڑا بحران یہ ہوتا ہے کہ یہ دنیا کے ہر کیمرے کو خود پر فوکسڈ رکھنے کے اتنے عادی ہوجاتے ہیں کہ گویا نشئی ہی بن جاتے ہیں۔ ایسا نشہ جس کے ٹوٹنے پر اگر کہنے کو کچھ بھی نہ ہو تو یہ بس اتنی سی ٹویٹ کرکے سارے کیمرے اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔
زمان پارک پہنچو !
کیوں پہنچو؟ تاکہ کیمرا دکھا سکے کہ اس کی کال پر ناچ ناچ کر جنریشن زی نے عقل ٹخنوں تک پہنچا دی ہے۔ ہم جنریشن زی کی عقل کا مسکن ٹخنے بے سبب نہیں بتا رہے۔ مثلاً یہی دیکھ لیجیے کہ جنریشن زی نے انہیں اس لیے نجات دہندہ مانا کہ انہوں نے ورلڈ کپ جتوایا تھا۔ اگر یہ ذرا بھی معقول بات ہوتی تو انہیں قائد یا وزیر اعظم بنانے کی غلطی وہ نسل کرتی جس کی آنکھوں کے سامنے ورلڈکپ کی جیت ہوئی تھی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کپ جیتنے کے بعد جب ہینڈسم جی نے سیاسی میدان میں قدم رکھا تو انہیں کسی نے گھاس تک نہ ڈالی۔ سنہ 90 کی دہائی والی نسل نے کرکٹ ورلڈ کپ کی جیت کو پولیٹکل کوالیفکیشن نہیں مانا۔ اس لیول کے احمق ابھی پنگوڑوں میں چوسنیوں کے مزے لے رہے تھے۔ اور ان کے سیاسی دیمک بننے میں ابھی کافی سال باقی تھے۔
وہ سال پورے ہوئے تو زمانہ اس سوشل میڈیا کا آچکا تھا جہاں عرب اسپرنگ نے ماحول ’انقلابی‘ بنا دیا تھا۔ اب یہ تو ہم آپ کو بتا ہی چکے کہ اس ساخت کے لیڈر انتخابی مہم کو بھی انقلابی سرگرمی سمجھتے ہیں۔ سو ہمارے ہینڈسم نے بھی انقلاب کا نعرہ لگا دیا۔ یہ انقلاب کتنا سیریس تھا اس کا اندازہ جنریشن زی کے اس عظیم انقلابی کو یاد کرکے لگا لیجئے جس نے بڑی معصومیت سے پوچھا تھا۔
’پولیس ہمیں روک کیوں رہی ہے؟ اگر پولیس روکے گی تو انقلاب کیسے آئے گا؟‘
ایسا سوال جسے سن کر لینن اور ماؤزے تنگ انگلیاں دانتوں میں دبا ہی نہیں چبا بھی لیتے! وہ دھرنا تو یاد ہی ہوگا جہاں کچھ دن انسانوں سے اور کئی ماہ خالی کرسیوں سے روز خطاب فرمایا گیا ؟ وہی دھرنا جو تھا تو حکومت کے خلاف، مگر ایک مستقل دشمن بھی مشق ستم کے لئے منتخب کرلیا گیا تھا۔ جب کہنے کے لئے کچھ نہ ہوتا تو مولانا فضل الرحمان ان کی زبان پر ہوتے۔ توہین، تذلیل، اور تحقیر اس تیزی سے سیاسی کلچر کا حصہ بنے کہ ایسا لگتا اس پارٹی میں شمولیت کے لئے گالی ہی شرط اول ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پچاس برس کا سیاسی تجربہ رکھنے والے جاوید ہاشمی پی ٹی آئی میں شامل ہوتے ہی اسٹیج سے گالی کیوں دیتے؟
مزید پڑھیے: ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں
گالم گلوچ کے اس طوفان میں جب وہ کوئی سیاسی بات کرتے بھی تو بس یہ کہ میں ایماندار ہوں، باقی سب چور۔ یعنی اپنی ذات کے ہی سیلزمین۔ کوئی نظریہ، منشور، اور پلان نہیں، بس اتنی سی بات ہی سب کچھ تھی کہ میں آکر سب ٹھیک کردوں گا۔ جو گھر چلانے میں 2 بار فیل ہوا تھا وہ ملک کامیابی سے چلانے کے وعدے کر رہا تھا۔ اور جب یہ موقع ملا تو ڈالر، پیٹرول اور گیس سب ایسے بے قابو ہوئے کہ پوری معیشت ہی ڈگمگا گئی۔ یہ جوابدہی کا لمحہ تھا اور جواب کیا آیا ؟
’میرے ہم وطنو ! آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘
لیکن اب ہر نیا دن یہ خبر کہ صورتحال بد سے بدتر، اداروں کی ساکھ مجروح، نظام مستقل بحران کا شکار اور ریاست ذاتی انا کی توسیع بن گئی۔ نتائج تو نکلنے تھے، اور جب نکلے تو داخلی ناکامی امپورٹڈ سازش، معاشی ناکامی پچھلی حکومتوں کا قصور اور خارجہ ناکامی عالمی سازش قرار پائے۔ اس کے بھی تو ثرات مرتب ہونے تھے۔ سو جب وہ مرتب ہوئے تو شروع ہوئی غدار، میر جعفر، اور نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے کی گردان۔اب اختلاف غداری، سوال دشمنی اور اندھی وفاداری حب الوطنی تھی۔
المیہ یہ ہے کہ بدترین درجے کی ناکامی، قتدار سے بے آبرو رخصتی، اور ملٹری انسٹالیشنز پر حملے کے باوجود وہ سیاسی طور پر صرف اس لیے زندہ تھا کہ ہمارا میڈیا کیمرا اس سے ہٹانے کو تیار ہی نہ تھا۔ کیونکہ میڈیا کو ناظر چاہیے اور ناظر کو فساد و ہنگامہ۔ اشتہار کی قیمت جو اسی سے طے ہوتی ہے۔ جتنے ناظر زیادہ اتنا اشتہار بیش قیمت۔ ملک کا بیڑا غرق ہوتا ہے تو میڈیا مالکان کو کیا؟ یوں وہ اقتدار سے باہر آکر ہی نہیں بلکہ جیل جاکر بھی خود کو اور ’خطرے ناک‘ ثابت کرنے پر تل گیا۔
مزید پڑھیں: وینزویلا اور لیٹ اسٹیج ایمپائر بہیویئر
مگر جنرل فیض کی سزا، عدلیہ کی تطہیر اور فیلڈ مارشل عاصم کی مدت ملازمت میں آئینی توسیع نے شاید اس کے اعصاب توڑ ڈالے ہیں۔ اوپر سے جنرل فیض کے وعدہ معاف گواہ بننے کا خوف الگ۔ وہ چپ چپ سا رہنے لگا ہے، سو کیمرا بھی رخ بدل رہا ہے۔ سہیل آفریدی بھی اس کی بجائے افغانیوں کی وکالت کرتے نظر آرہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس کا ذکر یوتھیوں سے زیادہ پٹواری ہی کرتے پائے جارہے ہیں۔ مگر اب یہ پٹواری بھی رفتہ رفتہ چپ کر جائیں گے۔ کیونکہ ہینڈسم نے خاموشی اختیار کرلی ہے، یہ خاموشی ابھی گہرائی کے سفر میں ہے۔ اس کی تکمیل پر اس نے جیل میں بڑی گیم کھیلنی ہے۔ اپنی رہائی کی گیم! کیونکہ وہ جان گیا ہے کہ اس کے ساتھ اس کی پارٹی کے لیڈر وہی کر رہے ہیں جو جیالے بھٹو کے ساتھ کر رہے ہیں۔ فرق بس یہ ہے کہ جیالوں کا بھٹو مرنے کے بعد بھی زندہ ہے اور یوتھیوں ہینڈسم زندہ ہوکر بھی مرحوم والے فوائد دے رہا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












