ملکہ کوہسار مری میں برفباری کا آغاز ہو گیا ہے جس کے بعد ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور ریسکیو 1122 کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بالائی علاقوں میں شدید برفباری، قومی شاہراہیں کھلی رکھنے کے احکامات جاری
ڈپٹی کمشنر مری آغا ظہیر عباس شیرازی کی ہدایت پر تمام متعلقہ محکمے فیلڈ میں موجود ہیں اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ڈی سی مری کے مطابق برفباری شروع ہوتے ہی اہم شاہراہوں پر نمک کا چھڑکاؤ کر دیا گیا ہے جبکہ تمام مرکزی اور رابطہ سڑکوں پر اہلکار برف ہٹانے کے لیے تعینات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ٹریفک پولیس ٹریفک مینجمنٹ پلان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنا رہی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بدنظمی سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھیے: بلوچستان کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری، اہم قومی شاہراہیں بند
آغا ظہیر عباس شیرازی نے سیاحوں اور مقامی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
ریسکیو 1122 مری کی رات کے دوران احتیاطی ہدایات
ریسکیو 1122 مری نے برفباری کے دوران شہریوں اور سیاحوں کے لیے خصوصی احتیاطی ہدایات جاری کی ہیں۔ ریسکیو حکام ہدایات کے مطابق رات کے دوران ہیٹر کے مسلسل استعمال سے اجتناب کیا جائے، بند گاڑی میں ہیٹر چلانے سے دم گھٹنے کا خطرہ ہوتا ہے، شدید سردی میں ہیٹر وقفے وقفے سے استعمال کریں، رات کے وقت تیز رفتاری سے گریز کریں کیونکہ سڑکوں پر پھسلن کا خدشہ ہے، ون وے کی خلاف ورزی سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، برفباری کے دوران رات کو غیر ضروری سفر سے پرہیز کیا جائے اور سفر کرنے والے سیاح گرم کپڑے، کمبل اور خشک میوہ جات ساتھ رکھیں۔
ریسکیو 1122 نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر 1122 پر کال کریں۔ ریسکیو اہلکار رات کے دوران بھی فیلڈ میں الرٹ اور دستیاب ہیں۔
رہائشیوں اور سیاحوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسم کی صورتحال سے باخبر رہیں۔
مختلف علاقوں میں 4 انچ برف پڑچکی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رضا تنویر سپرا
دریں اثنا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مری ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا نے بتایا ہے کہ ملکہ کوہسار مری میں برف باری کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور اب تک مختلف مقامات پر 4 انچ تک برف ریکارڈ کی جا چکی ہے۔
برف باری کے آغاز کے ساتھ ہی سیاحوں کی بڑی تعداد نے مری کا رخ کیا ہے جس کے باعث جمعرات کی رات 09:20 بجے تک ضلعی داخلی راستوں سے 10,741 گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں جبکہ 9,544 گاڑیاں شہر سے واپس روانہ ہوئیں اور اس وقت ضلع کی حدود میں نیٹ 1,197 گاڑیاں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح شہر کے اندرونی حصوں میں 9,551 گاڑیاں داخل ہوئیں اور 7,469 خارج ہوئیں جس کے بعد شہر کے اندر گاڑیوں کی مجموعی تعداد 2,082 ریکارڈ کی گئی ہے۔
ڈی پی او مری برف باری کے دوران جوانوں کا حوصلہ بڑھانے اور ٹریفک کی روانی کا جائزہ لینے کے لیے خود فیلڈ میں موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پہلی برفباری، آج مزید کن علاقوں میں برف پڑے گی؟
ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 21 جنوری کی رات سے اب تک مجموعی طور پر 11,339 گاڑیاں ضلع مری میں داخل ہوئیں اور 10,088 گاڑیاں خارج ہوئیں جبکہ اس وقت مری کے گنجان علاقوں میں گاڑیوں کی نیٹ تعداد 2,278 ہے۔














