خیبر پختونخوا حکومت نے سیف سٹی منصوبے کے تحت پشاور شہر میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے جدید کیمرے نصب کرنا شروع کر دیے ہیں، جو حکام کے مطابق مشکوک افراد کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ پورے شہر کی نگرانی میں مدد دیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایت پر سال 2009 سے التوا کا شکار سیف سٹی منصوبے پر دوبارہ کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت شہر کے تمام مرکزی مقامات پر جدید کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، جبکہ پشاور پولیس لائن میں کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے جہاں سے ان کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب کی 98 تحصیلوں میں اسمارٹ سیف سٹیز منصوبہ نافذ کرنے کا فیصلہ
چند روز قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت سیف سٹیز منصوبے کی پیش رفت سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کو رواں ماہ مکمل کرنے اور 31 جنوری کو افتتاح کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے منصوبے پر کام مزید تیز کرنے اور اسے مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پشاور سیف سٹی منصوبہ 31 جنوری 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا اور اسی روز اس کا افتتاح متوقع ہے۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں منصوبے کے تحت ڈی آئی خان میں 88، بنوں میں 76، لکی مروت میں 47، ٹانک میں 45، کرک میں 40 اور شمالی وزیرستان میں 37 مقامات پر جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔
فیشل اور نمبر پلیٹ ریڈ کیمرے
ایس ایس پی آپریشنز پشاور فرحان خان کے مطابق پشاور میں 133 مقامات پر مجموعی طور پر 711 کیمرے لگائے جا رہے ہیں، جن میں مختلف اقسام کے جدید کیمرے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں فیشل ریکگنیشن، گاڑیوں کی نمبر پلیٹ ریڈ، تھرمل اور باڈی کیمرے شامل ہیں، جن کی نگرانی کنٹرول روم سے براہ راست کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب سیف سٹی ایپ کے نئے فیچر پر بحث اور تشویش، اصل وجہ کیا ہے؟
پولیس حکام کے مطابق سیف سٹی منصوبہ مصنوعی ذہانت سے لیس ہے۔ اس جدید نظام میں نصب کیمروں کے ذریعے فیشل ریکگنیشن اور نمبر پلیٹ ریڈ کی سہولت موجود ہو گی، جس سے مشکوک یا جرائم میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی نشاندہی ممکن ہو گی۔ جبکہ فیشل ریکگنیشن کیمروں کے ذریعے ملزمان، مشکوک افراد اور پولیس کو مطلوب افراد کی شناخت بھی ممکن ہو سکے گی۔

پولیس کے مطابق ان کیمروں کی مدد سے چہروں اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی خودکار شناخت اور عمومی نگرانی ممکن ہو گی۔ حکام کے مطابق کسی مشکوک شخص یا گاڑی کے کسی مخصوص روٹ سے داخل ہونے کی صورت میں خودکار الرٹ جنریٹ ہو گا۔
صوبے میں مرحلہ وار توسیع
صوبائی حکومت نے سیف سٹی منصوبے کو مرحلہ وار وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں صوبے کے جنوبی اضلاع میں سیف سٹی منصوبے پر کام شروع کیا جائے گا، جس کے لیے صوبائی کابینہ نے 3 ارب 80 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے، جو بنوں، ڈی آئی خان، لکی مروت اور شمالی وزیرستان میں سیف سٹی منصوبے پر خرچ کیے جائیں گے۔
کیا سیف سٹی منصوبے سے دہشت گردی میں کمی آئے گی؟
پولیس حکام کے مطابق سیف سٹی منصوبہ ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے شہر میں امن و امان کے قیام میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق جدید نظام میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے پولیس کی کارکردگی بہتر ہو گی اور عوام کا پولیس سے رابطہ بھی مزید آسان ہو جائے گا۔
ایس ایس پی فرحان خان کے مطابق ان کیمروں کو 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور کنٹرول روم سے نگرانی ہر وقت جاری رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کیمروں کی مدد سے شہر میں داخلے اور اخراج کی مکمل نگرانی ممکن ہو گی اور مشکوک افراد کی نشاندہی کی صورت میں منٹوں میں ردعمل دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر داخلہ کا سیف سٹی ہیڈکوارٹرز کا دورہ، آن لائن ویمن پولیس اسٹیشن اور ون انفوموبائل ایپ کا افتتاح
انہوں نے کہا کہ اس نظام سے پولسنگ میں بہتری آئے گی اور مشکوک افراد و گاڑیوں کی خودکار نگرانی ممکن ہو گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف مقامات پر خصوصی الرٹ بٹن بھی نصب کیے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پولیس سے براہ راست رابطہ ممکن ہو گا۔
ایس ایس پی کے مطابق اگر کوئی شخص ایمرجنسی میں الرٹ بٹن دبائے گا تو پولیس کنٹرول روم سے ویڈیو رابطہ قائم کیا جائے گا، جس سے بروقت مدد فراہم کی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام سے جرائم پر قابو پانے اور ملزمان کی بروقت گرفتاری میں مدد ملے گی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس نظام سے خواتین کو بھی بروقت اور آسان مدد فراہم کی جا سکے گی۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں خواتین کو اب کسی سے مدد مانگنے کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ الرٹ بٹن کے ذریعے فوری طور پر پولیس سے رابطہ ممکن ہو گا۔













