امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے قائم کیے گئے اپنے نئے عالمی اقدام ‘بورڈ آف پیس’ میں شامل ہونے کی دعوت کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی سے واپس لے لی ہے۔
یہ اعلان ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کینیڈا کو اس نام نہاد باوقار عالمی بورڈ میں شامل کرنے کی دعوت اب منسوخ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر متعارف کرایا، جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ غزہ کی تعمیرِ نو اور عبوری حکومتی نظام کی نگرانی بتایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے
اب تک تقریباً 35 ممالک اس بورڈ میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں، تاہم وزیرِاعظم مارک کارنی نے اس حوالے سے کوئی حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا تھا۔ کارنی ڈیووس میں اس اقدام کی افتتاحی تقریب میں شریک نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ کیوبک سٹی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں موجود تھے۔
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ بورڈ آف پیس دنیا کے بااثر ترین رہنماؤں پر مشتمل ہوگا اور کینیڈا کے لیے اس میں شمولیت کی دعوت واپس لی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت پر کینیڈین وزیرِاعظم کے دفتر سے ردِعمل کے لیے رابطہ کیا گیا ہے، تاہم تاحال کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔
بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والے ممالک میں اسرائیل، ترکی، مصر، سعودی عرب اور قطر جیسے مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک شامل ہیں، تاہم برطانیہ اور فرانس جیسے روایتی یورپی اتحادیوں نے اس اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ فرانس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس منصوبے کے بعض نکات اقوامِ متحدہ کے چارٹر سے متصادم ہیں۔ انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی کسی ایک ملک کی نگرانی میں غیر ملکی خطے کے انتظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کا باضابطہ اعلان
اس منصوبے کے تحت مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب امریکی ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔ کینیڈا کے وزیرِ خزانہ فرانسوا فلپ شیمپین نے واضح کیا تھا کہ اگر کینیڈا اس بورڈ میں شامل بھی ہوتا ہے تو وہ یہ فیس ادا نہیں کرے گا۔
ٹرمپ اور کارنی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ڈیووس میں دونوں رہنماؤں کی تقاریر کے بعد دیکھنے میں آیا۔ مارک کارنی نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ بڑی طاقتیں، خصوصاً امریکا، معاشی تعلقات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں اور دوطرفہ مذاکرات درمیانی طاقتوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا کو امریکا کا شکر گزار ہونا چاہیے اور یہاں تک کہا کہ کینیڈا امریکا کی وجہ سے زندہ ہے۔
بعد ازاں کیوبک سٹی میں خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے صدر ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان شراکت داری ضرور ہے، لیکن کینیڈا امریکا کی وجہ سے نہیں بلکہ کینیڈین ہونے کی وجہ سے ترقی کرتا ہے۔ یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاہدےCUSMA پر نظرثانی کی تیاری جاری ہے۔














