پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کراچی کے گل پلازہ شاپنگ مال میں رونما جان لیواآتشزدگی کے حوالے سے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔
اس قرارداد میں پارلیمنٹ نے اس ہولناک حادثے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت پر زور دیا کہ وہ متاثرہ خاندانوں اور کاروباری اداروں کی ہر ممکن مدد کرے۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی، 26 جاں بحق، 81 افراد لاپتا، لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے معائنے جاری
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ مرحومین کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی ہے اور زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتی ہے۔
پارلیمنٹ نے خاص طور پر فائرفائٹر فرقان علی کو خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے اپنی جان کی قربانی دی، اور تمام فائرفائٹرز کی بہادری کو سراہا۔

پارلیمنٹ نے گہرے تشویش کے ساتھ اس بات کو نوٹ کیا کہ حفاظتی خامیوں کی وجہ سے یہ حادثہ ایک بڑے المیے میں تببدل ہوگیا۔
اس سلسلے میں قرارداد میں سندھ حکومت پر زور دیا گیا کہ متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے اور متاثرہ کاروبار کی فوری بحالی کی جائے۔
مزید پڑھیں: گورنر سندھ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے حق میں سامنے آگئے، بڑا مطالبہ کردیا
قرارداد کے متن کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام تجارتی اور رہائشی عمارتوں میں فوری طور پر شہر بھر کا ایمرجنسی فائر رسک آڈٹ کیا جائے۔
اسی طرح فائر اسٹیشنز اور فائر فائٹنگ آلات کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔
پارلیمنٹ نے وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سندھ حکومت کو اس بحران کے دوران ضروری تعاون فراہم کرے۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی: کیا یہ شارٹ سرکٹ نہیں بلکہ بچوں کی کارستانی ہے؟
قرارداد میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ کراچی کے عوام اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اس بات کا عزم کرتی ہے کہ گل پلازہ میں ضائع ہونے والی زندگیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
ساتھ ہی یہ بھی زور دیا گیا کہ ایسی آفات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے عملی اور دیرپا اقدامات کیے جائیں۔













