یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ روس، یوکرین اور امریکا کے حکام کے درمیان پہلی بار سہ فریقی مذاکرات جمعہ اور ہفتہ کو ہوں گے، جب کہ امریکا روس کی جانب سے یوکرین پر مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کر رہا ہے۔
زیلنسکی نے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد بتایا کہ یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں کی شرائط کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جبکہ جنگ کے بعد معاشی بحالی سے متعلق معاہدہ بھی تقریباً تیار ہے، جو کیف کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا اہم حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: روس اور یوکرین کی جانب سے ایک دوسرے کے توانائی انفراسٹرکچرز پر شدید حملے
زیلنسکی کے مطابق یہ مذاکرات متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں ہوں گے اور انہیں امریکا، روس اور یوکرین کے درمیان پہلا باضابطہ سہ فریقی اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم روس کی جانب سے ان مجوزہ مذاکرات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زیلنسکی سے ملاقات کو ‘اچھی’ قرار دیا، مگر جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو ایک جاری عمل کہا۔ اس سے قبل امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ڈیووس میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان طویل مذاکرات میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے اور اب صرف ایک مسئلہ باقی رہ گیا ہے، جس کے حل کے امکانات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جنگ بندی کے بعد روسی حملے پر امریکا یوکرین میں کثیرالملکی فورس کی تعینانی کی حمایت کرے گا
اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بعد ازاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بات چیت کے لیے ماسکو روانہ ہوئے، جس کے بعد امریکی وفد ابو ظہبی جائے گا جہاں فوجی سطح کے ورکنگ گروپس کے تحت مزید مذاکرات ہوں گے۔
زیلنسکی کے مطابق یہ مذاکرات جمعہ اور ہفتہ تک جاری رہیں گے اور اسی دوران پہلی بار تینوں ممالک کے حکام ایک ہی میز پر بیٹھیں گے۔













