روس اور یوکرین نے پیر کے روز ایک دوسرے پر رات گئے فضائی حملے کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں، جن میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
یوکرینی میڈیا کے مطابق یوکرین نے روس کے روستوف ریجن میں واقع نووچرکاسکایا پاور پلانٹ پر ڈرون حملہ کیا جو کامیاب رہا۔ دوسری جانب یوکرین نے یہ الزام بھی لگایا کہ روسی افواج نے یوکرین کے اوڈیسا ریجن میں ایک انفراسٹرکچر ہدف پر حملہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ملازمت کے نام پر روس یوکرین جنگ کا ایندھن بنائے جانے والے بھارتی شہری کی ویڈیو وائرل
روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ روستوف ریجن میں یوکرین کے 6 ڈرون مار گرائے گئے، تاہم وزارت نے پاور پلانٹ کو نقصان پہنچنے یا نہ پہنچنے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
تاہم روسی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ پاور پلانٹ متاثر ہوا، رپورٹس کے مطابق مار گرائے گئے ایک ڈرون کے ملبے سے پلانٹ کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔ جنگی صورتحال کے باعث دونوں جانب سے کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کرنا مشکل ہے۔
ادھر برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 میں یوکرین کی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے نئے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل تیار کرے گا۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق پروجیکٹ نائٹ فال کے تحت یوکرین کے لیے زمین سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کی تیز رفتار تیاری کا مقابلہ شروع کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زیلنسکی ٹرمپ ملاقات سے ایک روز قبل یوکرینی دارالحکومت پر میزائل حملے
ان میزائلوں میں 200 کلوگرام (440 پاؤنڈ) وزنی وار ہیڈ لے جانے اور 500 کلومیٹر (310 میل) سے زائد فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف یوکرین کی مدد کو 2026 تک جاری رکھنا ہے بلکہ برطانیہ کی دفاعی صنعت میں جدت اور ترقی کو بھی فروغ دینا ہے۔
پروگرام کے تحت فی میزائل زیادہ سے زیادہ لاگت 8 لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 10 لاکھ ڈالر) رکھی گئی ہے، جسے یوکرین کے لیے کم لاگت مگر مؤثر طویل فاصلے تک مار کرنے والا ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے، جس پر غیر ملکی برآمدی پابندیاں بھی کم ہوں گی۔












