سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے گل پلازہ سانحے پر صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں اب تک تقریباً 60 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: 16 افراد کی شناخت مکمل، سرچ آپریشن آج ختم ہونے کا امکان
کراچی کی مارکیٹوں اور فیکٹریوں میں ناقص انفرا اسٹرکچر کے باعث آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، تاہم اتنے بڑے پیمانے پر آگ لگنے کا واقعہ کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔
لاپتا افراد کے لواحقین نے 3 منزلہ گل پلازہ میں جاری سست رفتار ریسکیو آپریشن پر شدید تنقید کی ہے، جہاں امدادی ٹیمیں ملبے میں انسانی باقیات کی تلاش میں مصروف ہیں۔
مزید پڑھیں: پارلیمنٹ کا سندھ حکومت سے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی فوری مدد کا مطالبہ
گل پلازہ سانحے پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ وہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کو خط لکھ کر اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کی استدعا کریں گے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی کھلے مین ہولز میں گرنے سے درجنوں بچے جان سے جا چکے ہیں۔
سانحہ گل پلازہ کو ایک ہفتہ گزر گیا، مگر لواحقین کی آہیں اور سسکیاں آج بھی گونج رہی ہیں۔ مرہم رکھنے کے بجائے سیاسی بیانات زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ میں گل پلازہ کے متاثرین کو ایک ایک پلاٹ دینے کا اعلان کرتا ہوں۔ سانحہ پر سیاست اور بلیم گیم بند ہونی چاہیے۔ ایک ہفتہ بعد بھی ذمہ… pic.twitter.com/Dcx7DfsMok
— Kamran Tessori (@KamranTessoriPk) January 23, 2026
اگرچہ حکومت نے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے، تاہم آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ افسوسناک واقعے کو گزرے ایک ہفتہ ہو چکا ہے لیکن اب بھی سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ الزام کسی اور پر ڈالنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی اور ذمہ داروں کی نشاندہی کر کے انہیں سزا دلائی جائے گی۔
مزید پڑھیں: ’میں روز گل پلازہ کے اندر موجود اپنے پوتے کے لیے یہاں آکر بیٹھ جاتی ہوں‘، بزرگ خاتون غم سے نڈھال
گورنر سندھ نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ذاتی طور پر اس بات کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ مشینری درست طریقے سے کیوں کام نہیں کر رہی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سانحے میں جان بحق ہونے والے ایک شخص کے بیٹے پر لاٹھی چارج کیوں کیا گیا جبکہ مائیں انصاف کے لیے در بدر بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ عوام سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ٹیکس بھی دیں اور جانوں کی قربانی بھی۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ سے ملنے والی انسانی باقیات کی حالت خراب، ڈی این اے کا حصول بھی ناممکن ہوگیا
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے اس معاملے پر سیاست کی تو وہ سب کے راز بے نقاب کر دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ اس غفلت کو کسی صورت چھپنے نہیں دیں گے۔
گورنر سندھ نے یہ بھی کہا کہ وہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی آگاہ کریں گے کہ کراچی ان کا انتظار کر رہا ہے۔ ’فیلڈ مارشل کو خود آ کر دیکھنا چاہیے کہ یہاں کس نے ناانصافی کی ہے۔‘














