امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے کہا ہے کہ امریکا اب اپنی سرزمین کے دفاع کو اولین ترجیح دے گا اور یورپ میں اپنے اتحادیوں کو صرف محدود معاونت فراہم کرے گا۔
نظرثانی شدہ نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی دستاویز کے مطابق یورپی نیٹو ممالک کو اپنی سلامتی کے تحفظ اور یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسٹریٹیجی میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکا یورپ میں موجود رہے گا، تاہم اس کی ترجیح امریکا کے داخلی دفاع اور چین کو روکنا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کو ایٹمی تجربات فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ نیٹو اتحادیوں کو یورپ کے روایتی دفاع کی بنیادی ذمہ داری سنبھالنی ہوگی، جبکہ امریکا اہم مگر محدود معاونت فراہم کرے گا۔ اس میں یوکرین کے دفاع کی قیادت بھی یورپی ممالک کے ذمے ہوگی۔
دستاویز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یوکرین کی جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، لیکن یہ ذمہ داری سب سے پہلے یورپ پر عائد ہوتی ہے۔ اسٹریٹیجی میں ٹرمپ کی جانب سے نیٹو ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے اور واشنگٹن پر انحصار کم کرنے کے دباؤ کو بھی سراہا گیا ہے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے حال ہی میں کہا کہ ٹرمپ کے اقدامات کے نتیجے میں یورپ کو اپنی دفاعی ذمہ داریوں کا زیادہ ادراک ہوا ہے، جس سے نیٹو مضبوط ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں: یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا
تاہم یورپ میں ٹرمپ کے بعض بیانات پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کاجا کالاس نے ڈنمارک سے گرین لینڈ کے الحاق سے متعلق ٹرمپ کے بیانات کو ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے لیے ‘بڑا دھچکا’ قرار دیا ہے۔
پینٹاگون نے مزید کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کو گرین لینڈ اور پاناما کینال جیسے ‘اہم جغرافیائی علاقوں’ تک رسائی یقینی بنانے کے لیے قابلِ عمل آپشنز فراہم کرے گا، جنہیں ٹرمپ اپنی اسٹریٹیجک ترجیحات میں شامل سمجھتے ہیں۔














