امریکا کی جانب سے کیوبا پر تیل کی مکمل ناکہ بندی عائد کرنے کے امکان نے خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کیوبا کی تیل تک رسائی روک کر صدر میگوئل دیاز کینیل کی حکومت کو شدید دباؤ میں لانا چاہتا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے اندرونی عناصر کی تلاش بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں، کیوبا کے صدر نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا
امریکی جریدے پولیٹیکو کے مطابق کیوبا پر تیل کی مکمل پابندی کا منصوبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بعض سخت گیر ناقدین کی جانب سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جسے وزیر خارجہ مارکو روبیو کی حمایت حاصل ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تاحال اس منصوبے پر حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد کیوبا کی حکومت کو اس حد تک دباؤ میں لانا ہے کہ وہ کام کرنے کے قابل نہ رہے۔

گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وینزویلا کا تیل کیوبا پہنچنے سے روکا جائے گا، تاہم مکمل ناکہ بندی کی صورت میں کیوبا کو 1960 کی دہائی کے بعد سب سے سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیوبا پہلے ہی دہائیوں سے امریکی تجارتی پابندیوں کی زد میں ہے، تاہم 1962 کے کیوبا میزائل بحران کے بعد پہلی بار کسی امریکی بحری ناکہ بندی کا امکان سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا بمقابلہ کیوبا اور وینزویلا: تعلقات میں کشیدگی کی اصل وجوہات کیا ہیں؟
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ رواں سال کے اختتام تک کیوبا میں حکومت کی تبدیلی کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام میامی اور واشنگٹن میں کیوبن جلاوطن افراد اور سول سوسائٹی گروپس سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ کیوبا کے اندر کسی ایسے سرکاری عہدیدار کی نشاندہی کی جا سکے جو واشنگٹن سے معاہدہ کرنے پر آمادہ ہو۔ پولیٹیکو کے ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر دیاز کینیل کو ہٹانے کا منصوبہ مکمل طور پر 2026 سے جڑا ہوا ہے۔

صدر دیاز کینیل نے امریکی دباؤ اور دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیوبا ایک آزاد، خودمختار اور خود فیصلہ کرنے والا ملک ہے، جس پر کوئی بیرونی طاقت اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی۔ دوسری جانب روس نے بھی کیوبا کے خلاف امریکی بیانات اور ممکنہ اقدامات کی مذمت کی ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ امریکا دہائیوں سے کیوبا کو غیر قانونی پابندیوں کے ذریعے نشانہ بناتا آ رہا ہے اور دھمکیوں کی زبان ناقابل قبول ہے۔












