ایران کے ایک سینیئر عہدیدارنے بتایا ہے کہ امریکا کے کسی بھی حملے کو مکمل جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا، ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی فوجی ائیرکرافٹ کیریئر اسٹریک گروپ اور دیگر فوجی اثاثے آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں پہنچ رہے ہیں۔
سینیئر ایرانی عہدیدار نے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ فوجی بڑھوتری حقیقی تصادم کے لیے نہیں ہے، لیکن ہماری فوج بدترین صورتحال کے لیے تیار ہے، اسی لیے ایران میں سب کچھ ہائی الرٹ پر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور
انہوں نے مزید کہا کہ اس بار ہم کسی بھی حملے چاہے محدود ہو، غیر محدود، سرجیکل یا کسی بھی قسم کا کو مکمل جنگ کے طور پر شمار کریں گے اور سب سے سخت طریقے سے جواب دیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ امریکہ کا ‘آرمادا’ ایران کی طرف جا رہا ہے، لیکن امید ہے کہ اسے استعمال نہ کرنا پڑے، جبکہ ایران کو مظاہرین کے قتل یا نیوکلیئر پروگرام دوبارہ شروع کرنے سے روکنے کی تنبیہ بھی دی۔
یہ بھی پڑھیے: ’ایران کو مکمل تباہ کردیا جائےگا‘، صدر ٹرمپ کی تہران کو سنگین نتائج کی دھمکی
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکی ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کریں گے، تو ہم جواب دیں گے۔












