آئینی ترامیم، کراچی کے مسائل اور اثاثہ جات کا قانون سب ایک ہی بحران کی کڑیاں ہیں، شاہد خاقان عباسی

ہفتہ 24 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کنوینئر عوام پاکستان پارٹی اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران آئینی ترامیم، گل پلازہ سانحے، اور عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے سے متعلق حالیہ قانون سازی کو ایک ہی تناظر میں جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ اصل مسئلہ شفافیت کی کمی، عجلت میں فیصلے اور عوام کو نظر انداز کرنے کا رویہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلے عوام کے سامنے ہوں، نہ کہ بند کمروں اور رات کے اندھیرے میں۔

یہ بھی پڑھیں:شاہد خاقان عباسی کی انجیوپلاسٹی، ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا

آئینی ترامیم اور عجلت کا رویہ

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ان کے مطابق اگر آئین میں کسی مقصد کے تحت ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے مکمل طریقۂ کار موجود ہے، جس میں عوام کو اعتماد میں لینا، پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور تمام فریقین کی رائے شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اٹھارہویں ترمیم کی تیاری میں برسوں لگے تھے، اس کے باوجود عجلت کے باعث خامیاں رہ گئیں۔

گل پلازہ سانحہ اور حکومتی ذمہ داری

انہوں نے کہا کہ گل پلازہ جیسے سانحات میں حکومت کی اولین ذمہ داری متاثرین، شہدا کے لواحقین اور متاثرہ تاجروں کی بات سننا اور عملی حل تلاش کرنا ہے۔ ان کے مطابق بدقسمتی سے یہاں بھی سنجیدگی کے بجائے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے عوام کا اعتماد مزید مجروح ہو رہا ہے۔

عوامی نمائندے اور اثاثہ جات کی شفافیت

سابق وزیر اعظم نے عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے سے متعلق قانون پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں انہیں کوئی منطق نظر نہیں آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے درمیان رہیں اور ان کی زندگی کا ہر پہلو عوام کے سامنے ہو۔ اگر کسی نمائندے کو اپنی جان یا مال کا اتنا خوف ہے کہ وہ اثاثے ظاہر نہیں کرنا چاہتا تو اسے سیاست چھوڑ دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:وی ایکسکلوسیو: پی آئی اے کی نجکاری کا حامی ہوں، مقصد فائدہ کمانا نہیں مسلسل نقصان سے بچانا ہے، شاہد خاقان عباسی

انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے ملک کا واحد طبقہ ہیں جن کے ٹیکس گوشوارے بھی عوامی سطح پر شائع ہوتے ہیں، لیکن اب اگلا قدم شاید یہ ہو کہ انہیں بھی خفیہ کر دیا جائے۔ ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ بہت کم ایسے ارکانِ اسمبلی ہیں جو اپنے اثاثے اور آمدن درست طور پر ظاہر کرتے ہیں، جبکہ اخراجات لاکھوں اور کروڑوں میں ہوتے ہیں اور ٹیکس چند ہزار یا چند لاکھ ادا کیا جاتا ہے۔

 نظام کی ناکامی اور پارلیمان پر سوالیہ نشان

انہوں نے کہا کہ یہ رویہ پورے نظام کو تباہ کر رہا ہے۔ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی نے عجلت میں یہ قانون منظور کر کے اسپیکر کو اختیار دے دیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ گوشوارے عوام کے سامنے آئیں یا نہیں۔ ان کے مطابق اس قانون کو ختم ہونا چاہیے کیونکہ یہ پارلیمان کے دامن پر ایک کالا دھبہ ہے۔

عوام کی رائے اور جمہوریت کا مستقبل

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے اتنے کالے دھبے قبول کر لیے ہیں کہ اب ہمیں اس بات کی پرواہ نہیں رہی کہ عوام کیا سوچتے ہیں، ان کے مسائل کیا ہیں اور ان کی رائے کی کیا اہمیت ہے۔ ان کے مطابق چاہے معاملہ گل پلازہ کے سانحے کا ہو یا آئینی ترامیم کا، مسئلہ آخرکار اسی جگہ آ کر رک جاتا ہے کہ فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرناک ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کا چھپ کر علاج کروانا قابل قبول نہیں، علیمہ خان پھٹ پڑیں

ایران میں ڈالر کی کمی پیدا کر کے ریال کو گرا دیا گیا، امریکی وزیر خزانہ کا اعتراف

راجن پور اور کچے کے علاقے سے ڈاکوؤں کا صفایا، 500 سے زائد مجرموں نے ہتھیار ڈال دیے، مریم نواز

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟