ایمان مزاری کی گرفتاری کو محض ایک سیاسی ڈراما یا انسانی حقوق پر حملہ قرار دینا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ یہ اقدام دراصل برسوں سے جاری ایک منظم اور دانستہ ریاست مخالف مہم کے نتیجے میں سامنے آیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کو مجرم اور مسلح شدت پسند گروہوں کو بالواسطہ طور پر مظلوم یا قابلِ ہمدردی بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں:متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنا دی گئی
ذرائع کے مطابق ایک مخصوص مگر سرگرم طبقہ طویل عرصے سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسا بیانیہ پھیلا رہا تھا جو محض ریاستی پالیسیوں پر تنقید تک محدود نہیں، بلکہ ممنوعہ عسکری تنظیموں کے تشدد کو جواز فراہم کرنے یا اسے معمول کا عمل بنا کر پیش کرنے کی کوششوں پر مشتمل تھا۔ جیسے ہی قانون حرکت میں آیا، فوری طور پر اسے آزادیٔ اظہار اور انسانی حقوق کا مسئلہ بنا کر پیش کر دیا گیا۔
قانونی و سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اظہارِ رائے کی آزادی کا نہیں بلکہ تشدد کے جواز اور اس کی فکری معاونت کا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) جیسے گروہ سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ کالعدم دہشت گرد تنظیمیں ہیں، جو پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں، مزدوروں، اساتذہ اور عام شہریوں کے قتل میں ملوث رہی ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں ہزاروں خاندان ان حملوں کے باعث اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان تنظیموں کو ’غلط فہمی کا شکار‘ یا ’غیر مؤثر‘ قرار دینا رائے نہیں بلکہ دہشتگردی کی اخلاقی اور فکری معاونت کے مترادف ہے۔ ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے سے حکومتوں، اداروں اور پالیسیوں پر کھلی تنقید کی گنجائش موجود رہی ہے، تاہم اختلافِ رائے اور بغاوت کے درمیان ایک واضح اور ناقابلِ تردید حد فاصل موجود ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی سنجیدہ ملک اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کے شہری مسلح شدت پسند گروہوں کے لیے ڈیجیٹل ترجمان بنیں یا آن لائن پلیٹ فارمز کو تشدد اور بغاوت کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔ ریاست کا مؤقف واضح ہے کہ قانون کا اطلاق ڈیجیٹل دنیا میں بھی اسی طرح ہوتا ہے جیسے زمینی حقائق میں۔
یہ بھی پڑھیں:راجا ناصر عباس کی ایمان مزاری کے کیس میں مداخلت پر سوالات اٹھنے لگے
ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا مقصد آزادیٔ اظہار کا خاتمہ نہیں بلکہ اس تاثر کو ختم کرنا ہے کہ انتہا پسند بیانیے کی ترویج بغیر کسی انجام کے ممکن ہے۔ بحث و مباحثہ قابلِ قبول ہے، اختلافِ رائے صحت مند عمل ہے، مگر ان عناصر کا دفاع یا جواز فراہم کرنا جو پاکستانیوں کا خون بہاتے ہیں، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ریاستی مؤقف کے مطابق کوئی بھی شخص، چاہے وہ کتنا ہی بااثر، نمایاں یا محفوظ کیوں نہ سمجھا جائے، قانون سے بالاتر نہیں۔ یہ کارروائی آزادیٔ اظہار کا اختتام نہیں بلکہ ریاست مخالف اور شدت پسند بیانیے کے خلاف واضح حد بندی کا اعلان ہے۔













