واشنگٹن میں فعال اور متوازن سفارتکاری کے نتیجے میں پاکستان نے امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام آباد نے علاقائی کشیدگی اور عالمی سیاسی تبدیلیوں کو نہ صرف مؤثر انداز میں سنبھالا بلکہ انہیں اپنے قومی مفاد میں تبدیل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔
علاقائی تنازعات کو سفارتی موقع میں بدلنے کی حکمتِ عملی
دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات جمود کا شکار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک امریکا تعلقات: 26-2025 میں عملی مفاد پر مبنی شراکت داری کی تشکیل
اس صورتحال میں پاکستان نے دانشمندانہ سفارت کاری کے ذریعے خود کو ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا، جس سے امریکا میں پاکستان کا سفارتی وزن بڑھا۔
ٹرمپ انتظامیہ اور پاکستان کے اعلیٰ سطحی روابط
رپورٹ کے مطابق پاک بھارت جنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس مدعو کیا، جو ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت سمجھی گئی۔ اس کے بعد ستمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وائٹ ہاؤس دورے نے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی جان ڈال دی۔

ان ملاقاتوں کے دوران گفتگو محض سیکیورٹی امور تک محدود نہیں رہی بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون جیسے اہم شعبے بھی زیرِ بحث آئے۔
تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کی بحالی
دی ڈپلومیٹ کے مطابق جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی سے متعلق تجارتی معاہدہ طے پایا، جسے پاک امریکا تعلقات کے ایک پرانے مگر مضبوط ستون کی بحالی قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان بڑے تیل ذخائر کی مشترکہ ترقی کا اعلان بھی کیا، جو معاشی شراکت داری کی نئی مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک امریکا تعلقات خطے اور عالمی امن کے لیے انتہائی اہم ہیں، رضوان سعید شیخ
اسی تسلسل میں دسمبر 2025 میں امریکا نے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کے اپ گریڈ کی منظوری دی، جسے دفاعی تعاون کی بحالی کا اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں پاک امریکا تعاون بھی دوبارہ فعال ہو گیا ہے۔
علاقائی توازن اور چین سے تعلقات پر پاکستان کا مؤقف
بین الاقوامی جریدے کے مطابق جنوری 2026 میں پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کی اہمیت کو بھی واضح انداز میں اجاگر کیا، جس پر امریکا کی جانب سے کوئی منفی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

اس کے برعکس امریکا نے بلوچستان میں سرگرم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر کے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی۔
بھارت کو سفارتی اور تجارتی دھچکا
دی ڈپلومیٹ نے لکھا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدہ نہ ہو سکنے کے باعث واشنگٹن نے نئی دہلی پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جس سے بھارت کو سفارتی تنہائی اور معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں:واشنگٹن پوسٹ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ کو پاک امریکا تعلقات میں نئی جہت قرار دیدیا
رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال خطے میں طاقت کے توازن کو پاکستان کے حق میں موڑنے کا سبب بنی۔
بین الاقوامی جریدے کے مطابق پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود بروقت فیصلوں، متوازن خارجہ پالیسی اور فعال سفارت کاری کے ذریعے خود کو ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر مؤثر ریاست کے طور پر منوایا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں آنے والی یہ بہتری خطے کی سیاست اور معیشت دونوں پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔














