25 جنوری 1990 کو کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک اور سیاہ ترین دن قرار دیا جاتا ہے، جب بھارتی قابض افواج نے ضلع کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ میں بدترین مظالم کا ارتکاب کیا۔
25 جنوری 1990 کو ہندواڑہ میں ہونے والا اجتماع پُرامن اور غیر مسلح تھا، جس میں شہری وادی میں جاری قتل و غارت کے خلاف آواز بلند کرنے اور انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ تاہم بھارتی قابض فوج نے نہتے کشمیریوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 بے گناہ افراد شہید جبکہ 75 سے زائد زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 13 سالہ رضیہ سلطان کی اپنے والد یاسین ملک کو بھارتی مظالم سے بچانے کے لیے عالمی برادری سے اپیل
عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین مکمل طور پر غیر مسلح تھے۔ اس وقت پوری وادی پہلے ہی گاؤکدل قتل عام کے صدمے میں مبتلا تھی، مگر حالات کو بہتر بنانے کے بجائے بھارتی حکام نے کرفیو، فوجی محاصروں اور جبری گرفتاریوں میں مزید اضافہ کر دیا۔
بھارتی فورسز کی فائرنگ سے پورا علاقہ خوف اور غم کی فضا میں ڈوب گیا۔ واقعے کے بعد حسب روایت نہ تو کسی آزادانہ تحقیقات کی اجازت دی گئی اور نہ ہی اس سانحے کے ذمہ داروں کو کبھی سزا دی جاسکی۔
آج لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کشمیریوں نے بھارتی مظالم کے خلاف یوم سیاہ منایا۔ مظفرآباد میں کشمیریوں نے بھارتی جنگی جرائم کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا دیا، جہاں مظاہرین نے بھارت مخالف نعرے لگائے اور بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے والے پوسٹرز اٹھا رکھے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی مظالم کشمیریوں کو آزادی کے حصول سے نہیں روک سکتے، میاں محمد نواز شریف
یہ احتجاجی دھرنا ایک کشمیری تنظیم کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا، جس میں شرکا نے کشمیر کی آزادی کے حق میں اور بھارتی جنگی جرائم کے خلاف آواز بلند کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر بھی احتجاج جاری رکھیں گے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بھارت کو یوم جمہوریہ منانے کا کوئی اخلاقی یا قانونی حق حاصل نہیں، کیونکہ اس نے کشمیری عوام کو ان کے بنیادی اور جمہوری حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔













