کراچی میں پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ سے متعلق ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے سرچ آپریشن مکمل کرلیا، جس کے بعد تازہ صورت حال سے آگاہ کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کے مطابق گل پلازہ کی متاثرہ عمارت میں گزشتہ 9 روز سے جاری سرچ آپریشن اپنے آخری قریباً مکمل کرلیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: نویں روز بھی ملبے سے انسانی باقیات برآمد، ڈی این اے سے 15 افراد کی شناخت
انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ مزید سروے ٹیم عمارت کا جائزہ لے گی، جس کے بعد متاثرہ عمارت کو سیل کر دیا جائے گا۔ سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 73 ہو گئی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی ساؤتھ نے بتایا کہ لاپتا افراد کی فہرست 79 تک پہنچ چکی ہے، تاہم ان میں سے 13 افراد کے لواحقین تاحال ڈی این اے نمونے فراہم کرنے نہیں آئے اور نہ ہی ان کا کوئی رابطہ ہوا ہے۔
’اب تک 55 افراد کے لواحقین ڈی این اے جمع کرا چکے ہیں، جبکہ باقی افراد کو پیر تک کی مہلت دی گئی ہے، بصورت دیگر انہیں فہرست سے خارج کر دیا جائے گا۔‘
جاوید نبی کھوسو کے مطابق بعض کیسز میں ایک ہی خاندان کے 3 یا 4 افراد بھی شامل ہیں، جبکہ ابتدائی دن ہی 6 لاشوں کی شناخت کر لی گئی تھی۔ اب تک مجموعی طور پر 23 جاں بحق افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور میزنائن فرسٹ فلور کو مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا ہے، جبکہ ایک حصہ تاحال سرچ کے مرحلے میں ہے۔
انہوں نے شہریوں کو متاثرہ عمارت میں داخل نہ ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ احتیاطی طور پر مارکنگ بھی کر دی گئی ہے۔
ڈی سی ساؤتھ نے مزید بتایا کہ 30 لاشوں کا مکمل ڈیٹا حکومت کو ارسال کر دیا گیا ہے، جو معاوضے کی ادائیگی کے لیے بھی استعمال ہوگا۔ ان کے مطابق شناخت اور جانچ کے بعد ڈیٹا بھجوا دیا گیا ہے اور جلد ہی ورثا میں چیک تقسیم کیے جائیں گے۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا مقدمہ ایک روز قبل درج کر لیا گیا، ایس ایس پی سٹی
دوسری جانب ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے میڈیا کو بتایا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا مقدمہ ایک روز قبل درج کر لیا گیا ہے، جس کے بعد بیانات ریکارڈ کرنے کا عمل جاری ہے۔
ان کے مطابق اب تک گل پلازہ کے 6 سیکیورٹی گارڈز سمیت 10 افراد کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔
ایس ایس پی سٹی نے کہا کہ تفتیش کے دوران غفلت اور لاپرواہی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی کی ایف آئی آر درج، واقعہ ’غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ‘ قرار
انہوں نے بتایا کہ عمارت سے حاصل ہونے والا ڈی وی آر ڈیٹا وسیع ہے، جس کی مدد سے تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس بات کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے کہ عمارت کے دروازے کیوں بند تھے اور آگ لگنے کے بعد انہیں کیوں نہیں کھولا گیا۔
انہوں نے واضح کیاکہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔













