اے آر رحمان پر آسکر یافتہ گانے ’جے ہو‘ کا کریڈٹ چھیننے کا الزام ، حقیقت کیا ہے؟

پیر 26 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسکر ایوارڈ یافتہ گانے ’جے ہو‘ کی تخلیق سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری بحث کے دوران معروف فلم ساز رام گوپال ورما نے اپنے ایک پرانے بیان پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں غلط حوالوں سے پیش کیا گیا۔ انہوں نے اے آر رحمان کو نہ صرف دنیا کے عظیم ترین موسیقاروں میں شمار کیا بلکہ اس تاثر کو بھی سختی سے رد کیا کہ رحمان نے کبھی کسی اور کے کام کا کریڈٹ لیا ہو۔

رام گوپال ورما نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ جے ہو گانے کے معاملے میں مجھے غلط طور پر کوٹ کیا جا رہا ہے۔ میری نظر میں اے آر رحمان دنیا کے عظیم ترین موسیقار اور ایک نہایت شائستہ انسان ہیں۔ وہ آخری شخص ہیں جو کسی اور کا کریڈٹ لے سکتے ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس وضاحت کے بعد اس معاملے پر پھیلنے والی منفی فضا ختم ہو جائے گی۔

یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اے آر رحمان نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ گزشتہ 8 برسوں کے دوران ہندی فلم انڈسٹری میں ان کے کام میں کمی آئی ہے، جس کی وجہ انہوں نے انڈسٹری میں طاقت کے توازن میں تبدیلی اور فرقہ وارانہ سیاست کو قرار دیا۔ اسی پس منظر میں رام گوپال ورما کا ایک پرانا انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔

پرانے انٹرویو میں رام گوپال ورما نے دعویٰ کیا تھا کہ اے آر رحمان نے سلم ڈاگ ملینیئر کے لیے گانا جے ہو کمپوز نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ گانا سکھویندر سنگھ نے کمپوز کیا تھا اور بعد میں رحمان کی جانب سے انہیں 5 لاکھ روپے دیے گئے۔ مورما نے دعویٰ کیا کہ رحمان نے سکھویندر سنگھ سے اس گانے کا کریڈٹ چھین لیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’خود کشی کے خیال آتے تھے‘ طلاق کے بعد اے آر رحمان پہلی بار منظرِ عام پر

انہوں نے کہا کہ رحمان سبھاش گھئی کی فلم یوراج کر رہے تھے۔ رحمان تاخیر کے لیے بدنام ہیں۔ سبھاش گھئی نے رحمان کو میسج کیا کہ ’میرے پاس سلمان خان اور کترینہ کیف کی تاریخیں ہیں، سیٹ تیار ہے، اگر تم گانے نہیں دو گے تو کیا ہوگا؟‘ انہوں نے رحمان کو ایک سخت ای میل بھیجی جو اس وقت لندن میں تھے۔ اس کے بعد رحمان نے فون کیا اور کہا ’میں بمبئی آ رہا ہوں، سکھویندر سنگھ کے اسٹوڈیو آجاؤ، میں وہاں تمہارا گانا گاؤں گا‘۔

ورما نے مزید کہا کہ دو دن بعد سبھاش گھئی سکھویندر کے اسٹوڈیو پہنچے۔ رحمان اس وقت آندھرا میں ایئرپورٹ پر تھے۔ سکھویندر بیٹھا کچھ کر رہا تھا۔ رحمان نے اس سے کہا کہ گانا سناؤ۔ سبھاش گھئی کو غصہ آیا۔ انہیں لگا کہ بلا وجہ گانا گلوایا جا رہا ہے۔ پھر رحمان نے سبھاش گھئی کے سامنے ہی سکھویندر سے پوچھا، ’کیا تم نے یہ کمپوز کیا ہے؟‘ سکھویندر نے کہا ہاں، گانا سنایا، اور رحمان نے پوچھا کہ سبھاش کو پسند آیا یا نہیں۔

سبھاش گھئی غصے میں آ گئے اور چیخنے لگے، ’میں تمہیں 3 کروڑ دے رہا ہوں، اگر سکھویندر یہ کر سکتا ہے تو مجھے تمہاری کیا ضرورت ہے؟‘ ورما کے مطابق رحمان نے جواب دیا اپنی زبان پر قابو رکھو۔ تم میرے کام کے نہیں، میرے نام کے پیسے دے رہے ہو۔ یہ مت بھولو۔ تمہیں پتہ ہے میں اہم حصے کہاں سے لیتا ہوں؟ میرا ڈرائیور بھی کر سکتا ہے، میرا مالی بھی کر سکتا ہے، میں کہیں سے بھی خرید سکتا ہوں۔ میں تمہیں اپنا نام دے رہا ہوں‘۔

رحمان نے مزید کہا کہ تم مجھے اس لیے پیسے دے رہے ہو کہ کریڈٹ آئے، میوزک بائے اے آر رحمان۔ پوائنٹ نمبر دو: بتاؤ پسند آیا یا نہیں، اگر نہیں آیا تو دوسرا بنا دوں گا۔ ورما نے دعویٰ کیا کہ رحمان یہ کہہ کر چنئی واپس چلے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ’اے آر رحمان میرے والد کی طرح ہیں‘ تعلقات کی خبروں پر موہنی ڈے پھٹ پڑیں

سکھویندر نے مجھے بتایا کہ بعد میں رحمان نے فون کر کے کہا کہ گانا مکمل کرو اور ای میل کر دو۔ بس اتنا ہی ہوا۔ پھر ایک سال بعد رحمان کے مینیجر نے سکھویندر کو 5 لاکھ روپے کا چیک بھیجا۔ جب سکھویندر نے وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ ‘تم نے رحمان کے لیے گانا بنایا تھا اور رحمان نے اسے کسی پارٹی کو بیچا، یہ 5 لاکھ تمہارا حصہ ہے۔ وہ پارٹی کون تھی؟ سلم ڈاگ ملینیئر۔ اور وہ گانا تھا جے ہو۔

تاہم بعد میں سکھویندر سنگھ نے رام گوپال ورما کے بیان سے اتفاق نہیں کیا۔ جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے صرف گایا ہے۔ رام گوپال ورما جی کوئی چھوٹی ہستی نہیں ہیں شاید انہیں کچھ غلط معلومات ملی ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کفایت شعاری مہم: صدر مملکت نے یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کی منظوری دیدی

اسپتال پر حملے میں 400 ہلاکتوں کا دعویٰ، افغان میڈیا نے طالبان رجیم کا جھوٹ بے نقاب کردیا

اسپتال پر حملے کا دعویٰ جھوٹ، افغانستان پوزیشن واضح کرے دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا ہے یا پاکستان کے ساتھ، عطا تارڑ

حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کو غیر ملکی سرمایہ کاروں تک توسیع دے دی

جہاں جہاں اور جس چیز سے ملک کو خطرہ ہے اسے ختم کرنا پاکستان کا حق ہے، بیرسٹر گوہر

ویڈیو

دہشتگردوں کا نیا پروپیگنڈا، ٹرمپ عالمی تنہائی کا شکار ہوگئے

کسی بھی مسئلے پر زیادہ سوچنا پیچیدہ مسئلہ ضرور، لیکن اس کا آسان حل کیا ہے؟

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا