ہالی ووڈ اداکارہ کرسٹن اسٹیورٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا میں آزادی سے کام نہیں کر سکتیں اس لیے وہ اپنی ہدایتکاری کے کیریئر کے لیے یورپ منتقل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہالی ووڈ ایکٹر ایوارڈز: ’ون بیٹل آفٹر اینادر‘ اور ’سنرز‘ سرفہرست
چند ماہ قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی تھی جس کا مقصد فلم سازی کو امریکا تک محدود کرنا تھا۔ اس پالیسی پر ردعمل دیتے ہوئے ٹویئلائٹ فلم کی اداکارہ نے برطانوی اخبار دی ٹائمز کو انٹرویو میں کہا کہ وہ صدر کے احکامات کی اندھی تقلید پر یقین نہیں رکھتیں خواہ وہ درست ہوں یا غلط۔
کرسٹن اسٹیورٹ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث وہ امریکا میں آزادانہ طور پر کام کرنے کے قابل نہیں رہیں جس کی وجہ سے انہوں نے یورپ میں فلمیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس کے تصور کو فلم انڈسٹری کے لیے خوفناک قرار دیا۔
مزید پڑھیے: ہالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار رابرٹ ریڈفورڈ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
اپنی ہدایتکاری میں بننے والی پہلی فلم ’دا کرنولوجی آف واٹر‘ کے حوالے سے کرسٹن اسٹیورٹ نے بتایا کہ یہ فلم لاتویا میں شوٹ کی گئی کیونکہ امریکا میں اس منصوبے پر کام کرنا ممکن نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے دور میں حقیقت بکھرتی جا رہی ہے مگر ہمیں اپنی مرضی کی دنیا تخلیق کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں وہاں آزادی سے کام نہیں کر سکتی لیکن مکمل طور پر ہار بھی نہیں ماننا چاہتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت پیغام دیتے ہوئے اداکارہ نے کہ میں یورپ میں فلمیں بنانا چاہتی ہوں اور پھر انہیں امریکی عوام کے گلے اتارنا چاہتی ہوں۔
مزید پڑھیں: ‘چاہتی ہوں کہ ایسے کردار ادا کروں جو مجھے خوفزدہ کریں’، ہالی ووڈ اداکارہ مائیکی میڈیسن
واضح رہے کہ فلموں پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکی ہے۔














