گوادر کی ساحلی ہواؤں میں اب صرف سمندر کی مہک نہیں بلکہ خوداعتمادی، ہمت اور گرم چائے کی خوشبو بھی رچ بس گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مارشل آرٹ میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی کوئٹہ کی باہمت خواتین
3 گریجویٹ سہیلیوں نے شہر کا پہلا ٹی کیفے قائم کر کے نہ صرف ایک نیا کاروبار متعارف کرایا ہے بلکہ بلوچستان میں خواتین کے بااختیار ہونے کی ایک روشن مثال بھی قائم کی ہے۔
بلوچستان بالخصوص گوادر میں عموماً تعلیم یافتہ خواتین سرکاری یا نجی ملازمت کو ترجیح دیتی ہیں مگر ان خواتین نے نوکری کے بجائے کاروبار کا راستہ چن کر سماجی روایات کو چیلنج کیا۔
گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ماڈل پارک میں قائم اس منفرد ٹی کیفے کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں تمام ورکرز خواتین ہیں۔
کیفے میں چائے اور چٹ پٹے دیسی پکوانوں کے ساتھ بچوں کے ملبوسات بھی فروخت کیے جاتے ہیں جبکہ گاہکوں کے لیے مطالعے کی غرض سے کتابیں بھی دستیاب ہیں۔
اس انوکھے امتزاج نے چائے کے ساتھ مطالعے کے رجحان کو بھی فروغ دیا ہے۔
مزید پڑھیے: چترال کی باہمت لڑکی: نوکری چھوڑ کر گاؤں کی خواتین کو خود مختار بنادیا
کیفے کی شریک مالکہ وحیدہ بلوچ بتاتی ہیں کہ گوادر میں خواتین کا گھروں سے باہر نکل کر کام کرنا اب بھی ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تینوں سہیلیاں شاید گوادر کی پہلی خواتین ہیں جنہوں نے گھر بیٹھنے کے بجائے کاروبار کا انتخاب کیا اور یہ سب ہمارے خاندان کی مکمل سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
وحیدہ بلوچ کے مطابق آغاز میں انہیں سماجی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا لوگ طعنے دیتے تھے کہ اتنی پڑھی لکھی ہو کر بھی آلو اور چپس بیچتی ہو، مگر ہم نے ہمت نہیں ہاری۔
انہوں نے بتایا کہ کیفے کا آغاز محض ایک ٹینٹ سے کیا گیا تھا اور روزانہ دوپہر کو سامان لا کر رات کو واپس لے جایا جاتا تھا تاہم اب گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے باقاعدہ شاپ ملنے کے بعد ان کا کاروبار مزید مستحکم ہو گیا ہے۔
گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے فوکل پرسن حفیظ دشتی کا کہنا ہے کہ خواتین کا کاروبار کی طرف آنا نہایت خوش آئند ہے اور ایسے اقدامات معاشرتی ترقی کی علامت ہیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کی باہمت خاتون جنہوں نے اپنی معذوری کو کمزوری نہیں بنایا
یہ ٹی کیفے آج صرف چائے پینے کی جگہ نہیں بلکہ گوادر میں خواتین کے حوصلے، خودمختاری اور بدلتے سماجی رویوں کی علامت بن چکا ہے۔













