بلوچستان کی باہمت خاتون جنہوں نے اپنی معذوری کو کمزوری نہیں بنایا

جمعہ 1 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شازیہ نے نہ صرف آرٹ کی دنیا میں نام کمایا بلکہ وہ ان دنوں کوئٹہ کے علمدار روڈ پر دیگر خواتین کو بھی آرٹ سکھا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نوکری چھوڑی، ہنر اپنایا: کوئٹہ کی سابق ٹیچر کا کلے آرٹ اور کامیاب آن لائن بزنس

 شازیہ کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر عزم مضبوط ہو تو کوئی بھی رکاوٹ راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ بلوچستان جیسے خطے میں جہاں وسائل کی کمی اور معاشرتی رکاوٹیں اکثر ترقی کی راہ میں آتی ہیں شازیہ کا اپنی معذوری کو کمزوری کی بجائے طاقت بنانا ایک عظیم کارنامہ ہے۔

شازیہ نہ صرف خود آرٹ کے ذریعے اپنی پہچان بنا رہی ہیں بلکہ دیگر خواتین کو بھی آرٹ سکھا کر ان کی زندگیوں میں بھی رنگ بھر رہی ہیں۔ یہ اقدام خواتین کو خود کفیل بنانے کے ساتھ ساتھ ایک مثبت معاشرتی تبدیلی کی جانب قدم ہے۔

مزید پڑھیے: خضدار میں صوبے کا پہلا ویمن بازار خواتین کے لیے اتنا خاص کیوں؟

ان کی پینٹنگز، جو باہم معذور افراد کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی ہیں، معاشرے میں شعور بیدار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکی ہیں۔

شازیہ جیسے لوگ ہی اصل ہیرو ہوتے ہیں جو نہ صرف خود کو بلند کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی روشن راہوں پر گامزن کرتے ہیں۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کالعدم ایکشن کمیٹی ممبران شوکت نواز اور خواجہ مہران کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ درج

صدر مملکت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کرنے کی منظوری دیدی

پاک روس تعلقات پر اہم ویبینار، شرکا نے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات اجاگر کر دیے

’پیف‘ اسکولوں کے نتائج سرکاری اداروں سے بہتر ہیں، وزیر تعلیم پنجاب کا اساتذہ کے لیے بڑا اعلان

یورپی یونین کا میٹا کو حریف اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے واٹس ایپ کھولنے کا حکم

ویڈیو

پاک روس تعلقات پر اہم ویبینار، شرکا نے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات اجاگر کر دیے

کالعدم ایکشن کمیٹی بیرونی ایجنڈے پر، سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے، کال بھی لیک ہوگئی

نوابزادہ جمال رئیسانی کا تیزاب گردی میں ملوث ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟