وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے کسی بھی رہنما، بشمول مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی، سے سیکیورٹی واپس لینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں رہنما اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایم کیو ایم کے اہم وزرا اور اراکین اسمبلی کی سیکیورٹی واپس کیوں لی گئی؟
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ کسی بھی سیاسی شخصیت کی سیکیورٹی واپس لینے کے حوالے سے کوئی ہدایت یا حکم جاری نہیں کیا گیا۔
انہوں نے میڈیا اور عوام سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ اور گمراہ کن خبروں سے اجتناب کیا جائے اور سیکیورٹی کے حساس معاملات کو سیاست سے نہ جوڑا جائے۔
اس سے قبل ایم کیو ایم کی اعلی قیادت خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی سمیت اراکین سندھ اسمبلی کی سیکیورٹی واپس لیے جانے کی خبر آئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: سندھ میں جمہوری دہشتگردی کو بند کیا جائے، ایم کیو ایم نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کردیا
سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرعلی خورشیدی کی بھی سیکیورٹی واپس لینے کی رپورٹس تھی جس پر ایم کیو ایم کے وزرا، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے سیکیورٹی ہٹائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔














