23 سالہ زینب سونمیز، جو استنبول میں پیدا ہوئیں، آسٹریلین اوپن میں تیسرے راؤنڈ تک پہنچ کر ترکیہ کی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ورلڈ رینکنگ میں 112ویں نمبر کی سونمیز نے پہلے راؤنڈ میں دنیا کی 11ویں نمبر کی کھلاڑی ایکاتیرینا الیگزینڈرووا کو ہرا کر سب کو حیران کر دیا تھا، اور دوسرے راؤنڈ میں ہنگری کی انا بوندار کو 6-2، 6-4 سے شکست دی۔ تیسرے راؤنڈ میں ان کا مقابلہ قازقستان کی یولیا پوتنسوا سے ہوگا۔
مزید پڑھیں: پاکستانی ٹینس کھلاڑی طلحہ وحید نے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر لیا
سونمیز نے میچ کے بعد کہا کہ اسٹیڈیم میں ترک شائقین کی موجودگی نے انہیں اعتماد دیا اور محسوس ہوا کہ وہ سب ساتھ کھیل رہے ہیں۔ آج کا ماحول ایسا تھا کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا، شور اتنا زیادہ تھا کہ میں اپنی سوچ بھی نہیں سن سکتی تھی۔
ٹینس کی دنیا میں دلچسپ لمحہ یہ بھی آیا کہ آسٹریلین اوپن میں الیگزینڈرووا کے خلاف فتح کے بعد زینب سونمیز کو نوواک جوکووِچ نے ذاتی طور پر پیغام بھیجا۔ سونمیز نے بتایا کہ میں بہت پرجوش ہوئی کیونکہ انہوں نے میچ دیکھا۔ میں نے ان کو دیکھتے ہوئے بڑی ہوئی ہوں۔
مزید پڑھیں: کرکٹ سے محبت کرنے والے ملک کا ’اکلوتا ٹینس اسٹار‘ اعصام الحق کا پروفیشنل سفر ختم
30 اپریل 2002 کو استنبول میں پیدا ہونے والی سونمیز نے 6 سال کی عمر میں ٹینس کھیلنا شروع کیا۔ ابتدا میں انہوں نے دیگر کھیل بھی آزمائے، لیکن آخرکار ٹینس کا انتخاب کیا کیونکہ اس میں فرداً فرداً محنت اور اپنی ترقی پر کنٹرول ملتا تھا۔
Her şey için teşekkür ederim
Thank you for everything🇹🇷 #AO #AO2026
🤍❤️✨ https://t.co/4LjFezZBDu— Zeynep Sonmez (@ZeynepSonmez__) January 23, 2026
سونمیز نے انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن ITF سرکٹ سے پروفیشنل کیریئر کا آغاز کیا اور یورپ اور دیگر ممالک میں کئی ٹورنامنٹس کھیلے، جہاں انہوں نے چار ITF سنگلز ٹائٹلز جیتے۔ 2024 میں میریکا اوپن، میکسیکو میں پہلی WTA سنگلز ٹائٹل جیت کر ترکی کی چند WTA چیمپیئن کھلاڑیوں میں شامل ہو گئیں۔
سونمیز نے گرینڈ سلیم کے مراحل میں بھی تجربہ حاصل کیا ہے۔ 2024 میں آسٹریلین اوپن کے کوالیفائنگ فائنل راؤنڈ تک پہنچیں، رولان گارس میں مین ڈرا میں حصہ لیا، اور وہیں 2024 میں ونبلڈن میں تیسرے راؤنڈ تک پہنچنے والی پہلی ترک کھلاڑی بنیں۔
مزید پڑھیں: سابق ٹینس اسٹار سرینا ولیمز کو پرنسس آف ایسٹوریاس ایوارڈ سے نواز دیا گیا
سونمیز نے بلے جین کنگ کپ میں بھی ترکی کی نمائندگی کی اور قومی ٹیم کے مقابلوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتی رہی ہیں۔ 2025 کے وسط تک ان کی سنگلز میں کیریئر ہائی رینکنگ 74 تھی۔
ان کی کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ مسلسل محنت اور مستقل مزاجی ترک ٹینس کے لیے نئی راہیں کھول رہی ہے، اور آسٹریلین اوپن میں ان کی موجودگی ترکی کے کھیل کے لیے تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔














