تیونس کی ہدایتکارہ کاوتر بن ہانیا کی فلم The Voice of Hind Rajab کو بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:اے آر رحمان پر آسکر یافتہ گانے ’جے ہو‘ کا کریڈٹ چھیننے کا الزام ، حقیقت کیا ہے؟
فلم 5 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی حقیقی کہانی پر مبنی ہے، جو 29 جنوری 2024 کو غزہ سٹی میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے دوران اپنے خاندان کی کار میں محصور ہوکر شہید ہو گئی تھی۔ ہند اپنی فیملی کے ساتھ شمالی غزہ سے فرار ہو رہی تھی جب حملے کا نشانہ بنی، اور قریباً 2 ہفتے کے بعد اس کی موت کی تصدیق ہوئی۔
فلم کی کہانی ہند کے آخری لمحات پر مبنی فون کال پر مرکوز ہے، جس میں اس نے فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی سے مدد کی اپیل کی تھی۔ یہ کال بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور بین الاقوامی سطح پر غصہ اور انصاف کے مطالبات کو ہوا دی۔ ہند تک پہنچنے والے 2 پیرا میڈکس بھی اس حملے میں ہلاک ہوئے۔
مزید پڑھیں:آسکر یافتہ فلم کے کارکن اسرائیلی آباد کار کے ہاتھوں قتل
اگرچہ اسرائیلی فوج نے ذمہ داری سے انکار کیا، لندن کی تحقیقاتی تنظیم Forensic Architecture کے مطابق ہند کی کار پر سیکڑوں گولیاں چلائی گئیں اور ایک اسرائیلی ٹینک بھی قریب دیکھا گیا تھا۔ فلم ستمبر 2025 میں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پہلی بار پیش کی گئی تھی اور بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔














