مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب نے ایران کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مملکت نہ اپنی فضائی حدود اور نہ ہی اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہونے دے گی۔ یہ بات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔
#BREAKING: Crown Prince Mohammed bin Salman affirmed that Saudi Arabia will not allow its airspace or territory to be used for any military actions against Iran, in a phone call with Iranian President Masoud Pezeshkian. pic.twitter.com/gULgzRskoO
— Saudi Gazette (@Saudi_Gazette) January 27, 2026
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو یقین دلایا کہ سعودی عرب ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرتا ہے اور خطے میں تنازعات کے حل کے لیے مکالمے کی حمایت کرتا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ولی عہد نے کہا کہ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ہی خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دے سکتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب کے اس مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے مملکت کی جانب سے ایران کی خودمختاری کے احترام پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سعودی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جنگ کو روکنے کی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز پر خطرے کے بادل، امریکی بحری بیڑے کی آمد، ایران کا فضائی حدود بند کرنے کا اعلان
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستے اختیار کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔














