حکومت نے پاکستان میں پہلی مرتبہ زیرِ زمین گیس ذخیرہ کرنے کی سہولیات قائم کرنے کے لیے ابتدائی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں قومی ضروریات کے مطابق 11 سے 12 دن کی گیس ذخیرہ کرنے کی گنجائش حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ کی تیل، گیس اور معدنیات نکالنے کے لیے پاکستان کو 400 ملین ڈالر معاونت کی پیشکش
دی نیوز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایل این جی کارگو کا بار بار رخ موڑنے اورگیس ترسیلی نظام میں بڑھتے ہوئے حفاظتی خدشات کے پیشِ نظرکیا گیا ہے۔
انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمزنے زیرزمین گیس اسٹوریج منصوبے کے لیے ضرورت کے تعین اور پری فزیبلٹی اسٹڈی کرانے کی غرض سے تجربہ کار کنسلٹنسی فرموں سے تجاویز طلب کر لی ہیں۔
نیوز رپورٹ کے مطابق، یہ عمل پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے ای پی اے ڈی پورٹل کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔

اس وقت پاکستان کے پاس گیس ذخیرہ کرنے کا کوئی باقاعدہ انفرا اسٹرکچر موجود نہیں اور ملک تقریباً مکمل طور پر پائپ لائن پر مشتمل لائن پیک پر انحصار کرتا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ حکام کے مطابق یہ طریقہ نہ صرف غیر مؤثر ہے بلکہ ممکنہ طور پر خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
کم طلب کے ادوار میں اضافی گیس آرایل این جی پائپ لائن سسٹم میں جمع ہوجاتی ہے، جس کے باعث لائن پیک کا دباؤ 5 ارب مکعب فٹ سے تجاوز کر جاتا ہے۔
حکام اس سطح کے دباؤ کو ایک سنگین حفاظتی خطرہ قرار دے رہے ہیں۔














