برطانیہ میں غربت کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے اور ملک میں انتہائی شدید غربت کا شکار افراد کی تعداد گزشتہ 3 دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ایک نئی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 68 لاکھ افراد ایسے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جنہیں ’ویری ڈیپ پاورٹی‘ قرار دیا گیا ہے۔
یہ انکشاف جوزف راؤنٹری فاؤنڈیشن (JRF) کی منگل کو جاری کردہ رپورٹ میں کیا گیا، جس کے مطابق ’انتہائی شدید غربت‘ سے مراد ایسے گھرانے ہیں جن کی رہائش کے اخراجات نکالنے کے بعد آمدن برطانیہ کی اوسط آمدن کے 40 فیصد سے بھی کم ہو۔ رپورٹ کے مطابق 2 کم عمر بچوں والے ایک خاندان کے لیے یہ آمدن سالانہ تقریباً 16 ہزار 400 پاؤنڈ بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے برطانیہ میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ مجموعی طور پر برطانیہ میں غربت کی شرح 1994-95 میں 24 فیصد سے کم ہو کر 2023-24 میں 21 فیصد ہو گئی ہے، تاہم شدید غربت میں مبتلا افراد کی شرح 8 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہو چکی ہے، جو غربت میں رہنے والے تقریباً نصف افراد پر مشتمل ہے۔
بچوں کی غربت میں تشویشناک اضافہ
رپورٹ کے مطابق بچوں کی غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت برطانیہ میں 45 لاکھ بچے غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، جو لگاتار تیسرا سال ہے جب یہ تعداد بڑھی ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ اپریل سے 2 بچوں تک محدود فلاحی ادائیگیوں کی شرط ختم کر دی جائے گی۔ حکومتی اندازوں کے مطابق اس فیصلے پر 3.1 ارب پاؤنڈ خرچ ہوں گے، جس کا مقصد بچوں کی غربت میں کمی لانا ہے۔
یہ شرط 2017 میں کنزرویٹو حکومت نے متعارف کرائی تھی، جس کے تحت کم آمدن والے خاندانوں کو تیسرے یا اس کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کے لیے اضافی فوائد نہیں ملتے تھے۔
نسلی اقلیتیں اور معذور افراد زیادہ متاثر
جوزف راؤنٹری فاؤنڈیشن کے مطابق غربت کا سب سے زیادہ اثر بچوں اور معذور افراد پر پڑ رہا ہے، جبکہ برطانیہ میں بعض نسلی اقلیتیں، خاص طور پر بنگلہ دیشی اور پاکستانی کمیونٹیز، غربت کی بلند شرح کا سامنا کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے برطانیہ میں اسائلم کے نئے قوانین متعارف، پاکستانی پناہ گزینوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
فاؤنڈیشن نے اگرچہ 2 بچوں کی حد ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم خبردار کیا ہے کہ صرف یہی اقدام کافی نہیں۔ ادارے کے مطابق اگر بچوں کی غربت کے خاتمے کے لیے مزید جامع حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی تو بہتری کا عمل رک سکتا ہے۔
سماجی اداروں کا ردعمل
غربت کے خلاف کام کرنے والے معروف ادارے بگ ایشو کے بانی جان برڈ نے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار معاشرے کے لیے بری خبر ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ برطانیہ میں عدم مساوات تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق رپورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ اگرچہ مجموعی غربت میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن انتہائی غربت ایک سنگین اور بڑھتا ہوا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔














