سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو آنکھ میں شدید انفیکشن کی شکایت کے بعد سخت سیکیورٹی میں اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اسپتال کے سینیئر ڈاکٹر کی جانب بانی پی ٹی آئی کو رات گئے اسپتال لائے جانے کی تصدیق، جب کہ دوسرے ڈاکٹر کا غیر ضروری تنازع پیدا ہونے کے اندیشے کے پیش نظر گفتگو سے گریز۔
یہ بھی پڑھیں:بیرسٹر گوہر کا اجازت ملنے کے باوجود عمران خان کے ساتھ ملاقات سے انکار
ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق اطلاعات کے مطابق عمران خان کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب سخت حفاظتی انتظامات کے تحت پمز اسپتال لایا گیا۔ پمز کے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بتایا کہ سابق وزیرِ اعظم کو رات گئے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک طبی عمل انجام دیا گیا جو کافی دیر تک جاری رہا اور علی الصبح مکمل ہوا، جس کے بعد انہیں واپس لے جایا گیا۔
ڈاکٹر کے مطابق اس دوران اسپتال میں غیر معمولی سیکیورٹی اور نقل و حرکت دیکھی گئی، جبکہ آپریشن تھیٹرز اور اینستھیزیا روم کو بھی عارضی طور پر بند رکھا گیا۔

تاہم پمز کے ایک دوسرے ڈاکٹر نے اس حوالے سے مختلف موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر گفتگو سے گریز بہتر ہے، کیونکہ ایسی معلومات سامنے آنے سے غیر ضروری تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا عمران خان خود غرض ہیں؟
دوسری جانب اہلِ خانہ نے اس خبر پر تشویش اور شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں طویل عرصے سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، اس لیے وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ عمران خان کو واقعی کس نوعیت کی طبی تکلیف لاحق ہے۔
ان کے مطابق اگر ایسی کوئی سنگین صورتحال موجود تھی تو اسے اہلِ خانہ کے ساتھ بروقت شیئر کیا جانا چاہیے تھا۔














