فتنہ الخوارج سے وابستہ گروہ نے کرک کے علاقے بانڈا داؤد شاہ میں ایک تباہ کن دھماکا کیا، جس میں نہ صرف نائب کمشنر لکھی مروت حمید اللہ خٹک کے ہُجرہ کو نشانہ بنایا گیا بلکہ قریب ہی موجود پیٹرول پمپ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ یہ حملہ علاقے میں خوف اور انتشار پھیلانے کی خوارج کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے 13 دہشتگرد ہلاک
دھماکا بہادر خیل گاؤں، گلستان لوکلٹی میں ہوا، جس سے ہُجرہ اور پیٹرول پمپ دونوں کو وسیع نقصان پہنچا۔ خوارج کی یہ کارروائی بنیادی طور پر عوامی اور نجی املاک کو نشانہ بنا کر خوف اور افراتفری پیدا کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ماہرین کے مطابق خوارج کا مقصد علاقائی کنٹرول اور اقتدار قائم کرنا ہے، اور یہ سب تشدد کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔ ان کا نظریہ طاقت اور تشدد پر مبنی ہے، جسے وہ اسلام کی غلط تعبیر کے تحت اپنے ظالمانہ اقدامات کی جواز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:فتنہ الخوارج، تاریخی پس منظر اور آج کی مماثلت
فتنہ الخوارج مذہب کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے تشدد کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ علاقے میں افراتفری اور عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔













